اسرائیلی آبادکاروں کا مسجدِ اقصی پر دھاوا، فلسطینی حکام کا شدید احتجاج

اسرائیلی آبادکاروں کا مسجدِ اقصی پر دھاوا، فلسطینی حکام کا شدید احتجاج

صرف چند فلسطینی فجر کی نماز ادا کرنے میں کامیاب ہوئے
اسرائیلی آبادکاروں کا مسجدِ اقصی پر دھاوا، فلسطینی حکام کا شدید احتجاج

Webdesk

|

23 Jul 2026

تل ابیب: فلسطین کے گورنریٹ برائے القدس (یروشلم) کے مطابق یہودی مذہبی دن تشا بِآو کے آغاز سے اب تک 2300 سے زائد اسرائیلی آبادکار مسجدِ اقصی کے احاطے میں داخل ہو چکے ہیں۔

مسجدِ اقصی کے احاطے سے متعلق کئی دہائیوں سے قائم اسٹیٹس کو انتظام کے تحت جسے یہودی ٹیمپل مانٹ (Temple Mount) کہتے ہیں، وہاں صرف مسلمانوں کو عبادت کی اجازت ہے، مسجدِ اقصی اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے اور فلسطینی قومی شناخت کی اہم علامت بھی، جبکہ یہ مقام یہودی مذہب میں بھی انتہائی مقدس سمجھا جاتا ہے۔

تشا بِآو 70 عیسوی میں رومیوں کے ہاتھوں قدیم ہیکل (معبد) کی تباہی کی یاد میں منایا جانے والا یومِ سوگ ہے۔فلسطینی گورنریٹ کے مطابق اسرائیلی پولیس نے تقریبا 150، 150 افراد کے گروہوں کی صورت میں آبادکاروں کو مسجدِ اقصی کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دی۔

ان میں شامل افراد نے تفلین باندھے، مسجد کے مشرقی حصے میں سجدے کیے، عبادات ادا کیں اور بلند آواز میں مذہبی نغمے گائے۔

دوسری جانب فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی فورسز نے مسجدِ اقصی کے دروازوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے قدیم شہر میں سخت پابندیاں عائد کر دیں اور بیشتر فلسطینی نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا۔

گورنریٹ کا کہنا ہے کہ صرف چند فلسطینی فجر کی نماز ادا کرنے میں کامیاب ہوئے، جن میں سے بعض کو بعد میں اسرائیلی فورسز نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!