حکومت کا یوٹیوبرز، انسٹاگرام انفلوئنسرز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

حکومت کا یوٹیوبرز، انسٹاگرام انفلوئنسرز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

مسودے کے تحت ڈیجیٹل کریئیٹرز کو سہ ماہی بنیادوں پر ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا
حکومت کا یوٹیوبرز، انسٹاگرام انفلوئنسرز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

Webdesk

|

2 Apr 2026

کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نے سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں لانے کے لیے نئے قواعد کا مسودہ جاری کر دیا ہے۔

مسودے کے تحت 50 ہزار یا اس سے زائد سبسکرائبرز رکھنے والے یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز کو کاروبار تصور کرتے ہوئے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

ایف بی آر کی جانب سے ایس آر او 545(I)/2026 اور 546(I)/2026 کے تحت جاری مجوزہ ترامیم میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل چینلز سے آمدن حاصل کرنے والے افراد پر خصوصی ٹیکس طریقہ کار لاگو کیا جائے گا، جس میں مقامی اور غیر ملکی دونوں شامل ہوں گے۔

مجوزہ قواعد کے مطابق قابلِ ٹیکس آمدن وہ ہوگی جو سوشل میڈیا مواد سے حاصل ہونے والی مجموعی کمائی ہو، جس میں سے زیادہ سے زیادہ 30 فیصد اخراجات کی مد میں منہا کیے جا سکیں گے۔

 یہ ٹیکس ان افراد پر بھی لاگو ہوگا جو پاکستان میں ناظرین، اشتہارات یا سبسکرپشنز کے ذریعے آمدن حاصل کرتے ہیں، چاہے وہ ملک کے اندر ہوں یا باہر۔ایف بی آر نے یوٹیوب آمدن کے لیے ایک پیمانہ بھی متعارف کرایا ہے، جس کے تحت ہر ایک ہزار ویوز پر 195 روپے آمدن تصور کی جائے گی، جس میں وقتا فوقتا رد و بدل کیا جا سکتا ہے۔

مسودے کے تحت ڈیجیٹل کریئیٹرز کو سہ ماہی بنیادوں پر ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور اپنی آمدن کو سالانہ ٹیکس ریٹرن میں ایک مخصوص حصے میں ظاہر کرنا ہوگا۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!