رواں سال مزید 3 لاکھ سے زائد پاکستانی بہتر مستقبل کیلئے بیرون ملک روانہ
Webdesk
|
11 Aug 2026
لاہور: پاکستان میں خراب معاشی و سیاسی حالات کے باعث رواں سال مزید 3 لاکھ سے زائد پاکستانی بہتر مستقبل کیلئے بیرون ملک منتقل ہوگئے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ (جنوری تا جون) کے دوران 3 لاکھ 17 ہزار 436 پاکستانی بیرون ملک روزگار کے لیے گئے، جن میں ڈاکٹرز، سافٹ ویئر انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، پٹرولیم و مکینیکل انجینئرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ٹیکنیشنز شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب سرفہرست رہا جہاں ایک لاکھ 83 ہزار 951 پاکستانی روزگار کے لیے گئے، جبکہ متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر رہا جہاں 50 ہزار 773 افراد منتقل ہوئے۔
قطر 34 ہزار 25 افراد کے ساتھ تیسرے، بحرین 13 ہزار 329 اور ترکیہ 4 ہزار 673 ورکرز کے ساتھ نمایاں رہے۔ اس کے علاوہ قبرص، یونان، برطانیہ اور ملائیشیا بھی پاکستانی ورکرز کے لیے اہم ممالک رہے۔
رپورٹ کے مطابق 3 لاکھ 16 ہزار 848 افراد نے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BE&OE) کے ذریعے رجسٹریشن کروائی جبکہ اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (OEC) کے ذریعے 588 افراد کو بیرون ملک ملازمت ملی۔
ذرائع کے مطابق مزید ہزاروں افراد بیرون ملک جانے کے لیے سفری و ملازمت سے متعلق دستاویزات مکمل کروانے کی غرض سے مختلف سرکاری اداروں کے چکر لگا رہے ہیں، جبکہ ائیرپورٹس پر بھی مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب یہ رجحان ملک سے ہنر مند افرادی قوت کے انخلا کا باعث بن رہا ہے، وہیں دوسری جانب بیرون ملک جانے والے پاکستانی ترسیلات زر کی صورت میں ملکی معیشت کو سہارا دینے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
Comments
0 comment