سرکاری اسپتال میں سرنجوں کے غلط استعمال سے 84 مریضوں میں ایڈز کا انکشاف

سرکاری اسپتال میں سرنجوں کے غلط استعمال سے 84 مریضوں میں ایڈز کا انکشاف

اسپتال حکام کو جب پتہ چلا تو انہیں تلاش کر کے انہیں مختلف اسپتالوں میں علاج کے لیے منتقل کیا گیا
سرکاری اسپتال میں سرنجوں کے غلط استعمال سے 84 مریضوں میں ایڈز کا انکشاف

Webdesk

|

22 Feb 2026

 کراچی: شہر قائد کے سرکاری اسپتال میں سرنجوں کے غلط استعمال کے باعث 84 مریضوں میں ایڈز کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے سرکاری اسپتال میں غلط سرنجوں کے استعمال سے 84 مریضوں کو لا علاج اور موذی مرض ایڈز ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

یہ واقعہ ولیکا اسپتال میں ہوا ہے، جہاں گزشتہ برس آنے والے مریضوں کو استعمال شدہ سرنج سے انجکشن لگائے گئے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ مذکورہ مریض جو مختلف امراض کے علاج کے لیے اسپتال آئے تھے، وہ استعمال شدہ سرنجوں کے استعمال سے لاعلم تھے۔

 اسپتال حکام کو جب پتہ چلا تو انہیں تلاش کر کے انہیں مختلف اسپتالوں میں علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔اس حوالے سے وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے بتایا ولیکا اسپتال میں غلط سرنجیں لگنے سے 84 افراد کو ایڈز کا مرض لاحق ہو گیا۔

جیسے ہی اس کا پتہ چلا تو ڈی جی ہیلتھ کو بھیجا اور متاثرہ لوگوں کو تلاش کر کے ان کے ٹیسٹ کیے گئے اور اب انہیں دوائیں دے رہے ہیں۔

اس سے پہلے وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے قائمہ کمیٹی برائے صحت کو بتایا ہے کہ نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت فی مریض سالانہ تقریبا 300 سے 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایڈز ایک سے دوسرے شخص تک پھیلنے والا مرض ہے، جس کا علاج اب تک دریافت نہیں ہو سکا ہے۔

یہ موذی مرض غیر محفوظ ازدواجی تعلقات، ہم جنس پرستی، استعمال شدہ سرنج، بلیڈ، استرے کا استعمال، دانتوں کے نان اسٹرلائزڈ آلات سمیت دیگر ذرائع ہیں۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!