عمران خان کی بینائی شدید متاثر ہوچکی، سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع
ویب ڈیسک
|
12 Feb 2026
سپریم کورٹ کو سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جیل میں صورتحال اور صحت سے متعلق دو الگ الگ رپورٹس موصول ہو گئی ہیں۔ ایک رپورٹ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے جبکہ دوسری رپورٹ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی ہے۔
سلمان صفدر، جنہیں عدالت نے امیکس کیوری کے طور پر مقرر کیا تھا، نے منگل کے روز راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے سات صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی، جس میں عمران خان سے ہونے والی گفتگو، ان کی رہائش گاہ، دستیاب سہولیات اور جیل میں داخلے کے طریقہ کار کا ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے ملاقات کے دوران اپنی صحت سے متعلق کئی خدشات ظاہر کیے، جن میں آنکھوں کی بینائی کا مسئلہ نمایاں ہے۔ وکیل کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ علاج اور انجیکشن کے باوجود ان کی دائیں آنکھ کی بینائی کم ہو کر صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔
سلمان صفدر نے رپورٹ میں لکھا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2025 تک دونوں آنکھوں کی بینائی بالکل درست تھی، تاہم بعد ازاں نظر دھندلانے لگی۔ عمران خان کے مطابق انہوں نے یہ مسئلہ جیل انتظامیہ کے سامنے رکھا، مگر بروقت طبی توجہ نہیں دی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعد میں عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی اچانک مکمل طور پر متاثر ہو گئی، جس کے بعد پمز اسپتال کے ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر محمد عارف کو معائنہ کے لیے بلایا گیا۔ معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ آنکھ میں خون کا لوتھڑا بننے سے شدید نقصان ہوا ہے۔
سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ ملاقات کے دوران انہوں نے خود محسوس کیا کہ عمران خان بینائی متاثر ہونے کے باعث شدید ذہنی دباؤ اور اضطراب کا شکار تھے۔ ان کے مطابق عمران خان کی آنکھیں مسلسل نم تھیں اور وہ بار بار ٹشو استعمال کر رہے تھے، جو جسمانی تکلیف کی علامت تھا۔
وکیل نے یہ بھی بتایا کہ بعد میں عمران خان کے اہلِ خانہ کی جانب سے 6 فروری کی ایک میڈیکل رپورٹ حاصل کی گئی، جس پر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کے دستخط ہیں۔ تاہم رپورٹ میں علاج کے مکمل مراحل، ٹیسٹ کرنے والے ماہر ڈاکٹر کی تفصیل اور دیے گئے انجیکشن سے متعلق مکمل معلومات درج نہیں ہیں۔ رپورٹ میں بیماری کی تشخیص دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے یہ بھی شکایت کی کہ اس دوران ان کے باقاعدہ خون کے ٹیسٹ نہیں کروائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ان کے ذاتی معالجین کو جیل میں معائنہ کی اجازت ملتی رہی، مگر بینائی کے مسئلے کے دوران بار بار درخواست کے باوجود یہ سہولت فراہم نہیں کی گئی۔
سپریم کورٹ ان رپورٹس کی روشنی میں مزید کارروائی پر غور کر رہی ہے۔
Comments
0 comment