بیوی کو گھورنا، دوسری شادی کی دھمکی دینا یا زبردستی جوائنٹ فیملی میں رکھنا جرم ہوگا، بل منظور
ویب ڈیسک
|
24 Jan 2026
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں گھریلو تشدد کی روک تھام اور متاثرہ افراد کے تحفظ سے متعلق نیا قانون منظور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت خواتین اور گھر میں رہنے والے دیگر افراد کے خلاف مختلف رویّوں کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوگا۔
ڈومیسٹک وائلنس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2026 کے مطابق بیوی، بچوں، بزرگوں، معذور افراد، لے پالک بچوں، ٹرانسجینڈر افراد اور ایک ہی گھر میں رہنے والے تمام افراد کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔
قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ بیوی کو طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا، مسلسل گھورنا، گالی گلوچ کرنا، ذہنی یا جذباتی اذیت دینا، یا خوف میں مبتلا کرنا اب جرم تصور ہوگا۔ ایسے جرائم پر تین سال تک قید یا ایک لاکھ روپے تک جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔
نئے قانون کے تحت کسی خاتون یا گھر کے فرد کو اس کی مرضی کے بغیر مشترکہ رہائش پر مجبور کرنا، پرائیویسی یا عزتِ نفس کو نقصان پہنچانا، تعاقب کرنا یا جسمانی نقصان کی دھمکی دینا بھی قابلِ تعزیر جرم ہوگا۔ اسی طرح گھر کے افراد کی ضروریات کا خیال نہ رکھنا یا بلاجواز الزامات لگانا بھی قانون کی خلاف ورزی شمار کی جائے گی۔
قانون سازوں کے مطابق اس قانون کا مقصد گھریلو ماحول میں تشدد، دباؤ اور استحصال کی حوصلہ شکنی کرنا اور متاثرہ افراد کو فوری قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
Comments
0 comment