کراچی سمیت ملک بھر میں بجلی مہنگی ہونے کا امکان
Webdesk
|
17 Jun 2026
کراچی: ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)نے مئی 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کے نرخوں میں 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کرا دی ہے۔
سی پی پی اے کی جانب سے دائر درخواست کے مطابق مئی کے دوران بجلی کی اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ رہی، جبکہ فیول لاگت کا تخمینہ 8 روپے 43 پیسے فی یونٹ لگایا گیا تھا، جس کے باعث نرخوں میں اضافے کی ضرورت پیش آئی۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ مئی 2026 کے دوران مجموعی طور پر 12 ارب 63 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔ اگر نیپرا نے درخواست منظور کر لی تو بجلی صارفین پر تقریبا 12 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
دستاویزات کے مطابق مئی میں بجلی کی پیداوار میں سب سے بڑا حصہ پن بجلی کا رہا، جو مجموعی پیداوار کا 33.27 فیصد تھا۔ مقامی کوئلے سے 11.66 فیصد، درآمدی کوئلے سے 13.54 فیصد، مقامی گیس سے 8.31 فیصد، درآمدی ایل این جی سے 11.81 فیصد جبکہ جوہری ایندھن سے 14.25 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار کا حصہ 0.16 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔نیپرا نے سی پی پی اے کی درخواست پر 30 جون کو سماعت مقرر کر دی ہے، جس کے دوران فیول لاگت اور دیگر تکنیکی امور کا جائزہ لیا جائے گا۔
سماعت کے بعد اتھارٹی بجلی کے نرخوں میں اضافے یا موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے سے متعلق حتمی فیصلہ کرے گی۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخوں میں ردوبدل عالمی ایندھن قیمتوں، پیداواری لاگت اور بجلی کے ذرائع کے تناسب سے منسلک ہوتا ہے، تاہم حالیہ مجوزہ اضافہ صارفین کے لیے اضافی مالی دبا کا سبب بن سکتا ہے۔
Comments
0 comment