نئے صوبوں کی بجائے نظام کی خرابیوں پر بحث ہونی چاہیے: بلاول بھٹو

نئے صوبوں کی بجائے نظام کی خرابیوں پر بحث ہونی چاہیے: بلاول بھٹو

محسن نقوی صاحب کی اپنی رائے ہے جبکہ وہ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔
نئے صوبوں کی بجائے نظام کی خرابیوں پر بحث ہونی چاہیے: بلاول بھٹو

Webdesk

|

9 Sep 2026

لندن: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کو پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ توجہ نئے صوبے بنانے کے بجائے نظام کی خرابیوں اور اس کے ممکنہ طور پر ناکام ہونے کے خطرے پر ہونی چاہیے۔

لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ محسن نقوی صاحب کی اپنی رائے ہے جبکہ وہ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر کسی بھی وفاقی وزیر یا حکومتی نمائندے کے ساتھ پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا  مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو کئی دہائیوں سے نظام سے متعلق مسائل کا سامنا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مسائل پر توجہ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اصل توجہ نظام کے مسائل، ان کی وجوہات اور نظام کے ممکنہ طور پر ناکام ہونے کے خطرے پر ہونی چاہیے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ منتخب نمائندوں کو ایسے معاملات پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے چاہئیں۔

 ان کے مطابق محسن نقوی کو پارلیمنٹ کے باہر ہونے والے فورمز کے بجائے قومی اسمبلی کے اجلاس میں آنا چاہیے. تاکہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر باقاعدہ بحث ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ بحث اس بات پر ہونی چاہیے کہ ملک کے اصل مسائل کیا ہیں اور ان مسائل کا حل کیا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے اس کی بنیادی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے اور پارلیمنٹ میں اس حوالے سے تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!