پاک افغان سرحد پر شدید کشیدگی، دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری

پاک افغان سرحد پر شدید کشیدگی، دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری

پاکستان کی حالیہ کارروائی میں 80 جنگجو مارے گئے تھے
پاک افغان سرحد پر شدید کشیدگی، دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری

ویب ڈیسک

|

25 Feb 2026

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع ڈیورنڈ لائن کے مختلف مقامات پر طالبان جنگجوؤں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان نے مشرقی افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی کارروائیاں کیں۔ حکام کے مطابق ان حملوں میں درجنوں شدت پسند مارے گئے۔ افغان طالبان حکومت نے ان فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان میں عام شہری نشانہ بنے اور یہ کارروائی افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔

وزیراعظم کے غیر ملکی میڈیا کے ترجمان مشرف زیدی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ افغان طالبان حکومت نے طورخم اور تیراہ کے علاقوں میں بلااشتعال فائرنگ کا آغاز کیا، جس پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جواب دیا اور صورتحال کو قابو میں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا، اور پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔

ادھر سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ہفتے ننگرہار اور پکتیکا کے صوبوں میں فضائی حملے کیے جن میں 80 سے زائد شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں گزشتہ سال اکتوبر کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑی فوجی پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔

وزارتِ اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے پاکستان میں ہونے والی متعدد دہشت گرد کارروائیوں، جن میں اسلام آباد میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ اور بنوں و باجوڑ میں دیگر حملے شامل ہیں، کے ردعمل میں کیے گئے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے پاس ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ یہ کارروائیاں افغانستان میں موجود عناصر کی ہدایات پر کی گئیں۔ اسی تناظر میں سرحدی علاقوں میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک گروہ اور داعش خراسان شامل تھے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان نے بارہا افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، تاہم اس حوالے سے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!