2 hours ago
ایران-امریکہ مجوزہ معاہدے کے خلاف تہران اور مشہد میں احتجاج
Webdesk
|
14 Jun 2026
تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ معاہدے پر دستخط کی خبروں کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں اس معاہدے کے مخالفین سڑکوں پر نکل آئے۔ دارالحکومت تہران اور شہر مشہد میں ہونے والے مظاہروں کے دوران بعض شرکا نے ایرانی حکام کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔
تہران کے ابنِ سینا چوک میں ہونے والے احتجاج میں مظاہرین نے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدہ قومی مفادات کے مطابق نہیں اور اس سے ایران کی اہم تزویراتی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب مشہد میں درجنوں افراد وزارتِ خارجہ کی عمارت کے سامنے جمع ہوئے اور امریکہ کے ساتھ ممکنہ سمجھوتے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔ مقامی ذرائع کے مطابق مظاہرین نے عباس عراقچی کے حالیہ بیانات پر بھی اعتراضات اٹھائے۔
معاہدے کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر یہ سمجھوتہ موجودہ شکل میں طے پاتا ہے تو آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کی برتری اور دباؤ کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ عباس عراقچی نے حالیہ ایک ٹیلی وژن گفتگو میں کہا تھا کہ مجوزہ معاہدے میں ایرانی بندرگاہوں کے گرد بحری پابندیوں کے خاتمے سے متعلق شقیں بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ایران کی اہم تزویراتی طاقتوں میں شمار ہوتی ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز میں بھی مظاہرین کو عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف کے خلاف نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ان ویڈیوز کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
Comments
0 comment