سندھ حکومت نے سانحہ گل پلازہ کا ملبہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی پر ڈال دیا
Webdesk
|
24 Jan 2026
پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے سانحہ گل پلازہ کا ملبہ ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی پر ڈال دیا۔
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی لیز، ریگولرائزیشن اور قوانین کی خلاف ورزیوں میں اُس وقت کی شہری قیادت کا کردار رہا، جس میں فاروق ستار بطور میئر اور جماعت اسلامی کے ناظمین شامل تھے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کی حالیہ پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ مؤثر زبان اور خوبصورت جملے بولنے سے حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔
ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ جیسے واقعات کسی ایک دن کی کوتاہی نہیں بلکہ برسوں پر محیط غلط فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب گل پلازہ سے متعلق لیز، میوٹیشن اور دیگر کاغذات کی منظوری دی جا رہی تھی، اُس وقت کراچی کے میئر فاروق ستار تھے اور شہری منصوبہ بندی کی بنیادی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی تھی۔ اب خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش حقیقت کو نہیں بدل سکتی۔
شرجیل میمن کے مطابق سرکاری ریکارڈ واضح طور پر بتاتا ہے کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات اور بے ضابطہ ریگولرائزیشن کی بنیاد اسی دور میں رکھی گئی، جس نے شہر میں غیر محفوظ عمارتوں کے رجحان کو فروغ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب قانون شکنی کو بعد میں قانونی تحفظ دیا جاتا ہے تو اس کے سنگین نتائج سامنے آتے ہیں، اور گل پلازہ سانحہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ وزیر اطلاعات سندھ کا کہنا تھا کہ عوام آج یہ سوال کر رہے ہیں کہ غلط فیصلوں کی بنیاد رکھنے والوں سے جواب دہی کب ہوگی۔
شرجیل انعام میمن نے زور دیا کہ کراچی کے عوام سچ جاننا چاہتے ہیں اور سچ یہ ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کو جائز قرار دینے والوں پر اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
Comments
0 comment