سندھ میں سیلاب کا خطرہ، گڈو بیراج پر 12 لاکھ کیوسک پانی آنے کی پیشگوئی

Webdesk
|
28 Aug 2025
جیکب آباد: سندھ کو سیلاب کا خطرہ، گڈو بیراج پر 12 لاکھ کیوسک پانی آنے کی پیشگوئی، 35 لاکھ سے زائد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ، سندھ حکومت نے کوئی انتظامات نہیں کئے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کے محکمہ فلڈ فورکاسٹ ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چار روز کے اندر گڈو بیراج پر 12 لاکھ کیوسک پانی آنے کا امکان ہے ۔
رپورٹ کے مطابق بیراج کی گنجائش 12 لاکھ کیوسک ہے لیکن اس کا انفراسٹرکچر 1960ء کی دہائی کا پرانا ہے جو بڑی آزمائش کی گھڑی میں کمزور پڑسکتا ہے وفاقی حکومت کے محکمہ فلڈ فورکاسٹ ڈویژن نے سندھ حکومت کو خبردارکرتے ہوئے آگاہ کیا ہے کہ موجودہ صورتحال کسی بڑے سانحے میں تبدیل ہوسکتی ہے ۔
اس لیے پہلے سے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کئے جائیں تاہم سندھ حکومت کی طرف سے تاحال کوئی خاطرخواہ تیاری نظر نہیں آئی نہ بھاری مشینری پہنچی ہے نہ ہی وزیر اعلیٰ سندھ سمیت سندھ حکومت کے کسی وزیر نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے حفاظتی انتظامات کرنے کے بجائے صرف چند وزراء کو فوکل پرسن مقرر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر پانی کی یہ سطح برقرار رہی تو سندھ کے اضلاع کشمور، شکارپور، جیکب آباد، قمبر شہداد کوٹ، دادو کے ساتھ بلوچستان کے علاقے صحبت پور، جعفرآباد، اوستہ محمد اور جھل مگسی بھی شدید متاثر ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق اگر سیلابی صورتحال پیدا ہوئی تو تقریباً 35 لاکھ افراد متاثر ہوسکتے ہیں اور بڑی تعداد میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے جبکہ مذکورہ اضلاع کی 50 فیصد تک زرعی زمینیں تباہ اور بڑی تعداد میں مال مویشی مر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ جیکب آباد نے ابھی تک کوئی ہنگامی منصوبہ بندی نہیں کی نہ ہی لوگوں کو ریسکیو کے لیے کشتیاں فراہم کی گئیں اور نہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ پی ڈی ایم اے سندھ کی جانب سے سندھ کے چند اضلاع میں مشینری بھیجی گئی ہے لیکن یہ ناکافی ہے سماجی تنظیم سی ڈی ایف نے گزشتہ سال ڈی ڈی ایم اے جیکب آباد کو چار کشتیاں فراہم کی تھیں مگر اب تک مزید کوئی اقدام سامنے نہیں آئے ہیں۔
Comments
0 comment