سانحہ پمز: اسلام آباد کے 44 اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے کا انکشاف

سانحہ پمز: اسلام آباد کے 44 اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے کا انکشاف

اسلام آباد کے 44 سرکاری اور نجی اسپتالوں کو پہلے ہی فائر اینڈ لائف سیفٹی سے متعلق نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں
سانحہ پمز: اسلام آباد کے 44 اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے کا انکشاف

ویب ڈیسک

|

26 Aug 2026

اسلام آباد: پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد دارالحکومت کے دیگر اسپتالوں میں بھی فائر سیفٹی انتظامات سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے 44 سرکاری اور نجی اسپتالوں کو پہلے ہی فائر اینڈ لائف سیفٹی سے متعلق نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اسپتال انتظامیہ کو حفاظتی خامیوں کو دور کرنے کے لیے متعدد بار متنبہ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق نوٹسز کی فہرست میں اسلام آباد پولی کلینک، سی ڈی اے کا کیپیٹل ہسپتال اور 42 دیگر سرکاری و نجی طبی ادارے شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق کیپیٹل ہسپتال کو بھی فائر سیفٹی فٹنس اور ممکنہ خطرات سے متعلق الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ ہسپتال انتظامیہ کو فائر پریوینشن، فائر پروٹیکشن اور لائف سیفٹی کے ضروری آلات نصب کرنے کے ساتھ فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کی گئی۔

متعلقہ محکمے کی جانب سے ہسپتال کو فائر سیفٹی پلان کی منظوری، لازمی فٹنس سرٹیفکیٹ اور این او سی حاصل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ فائر سیفٹی پلانز کی تکنیکی جانچ، ماہرین اور رجسٹرڈ کنٹریکٹرز کی خدمات حاصل کرنے اور باقاعدگی سے فائر ڈرلز کرانے پر بھی زور دیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق کیپیٹل ہسپتال کو فائر سیفٹی سے متعلق خامیوں کو دور کرنے کے لیے تین ماہ کی مہلت بھی دی گئی تھی، جبکہ 2014 سے 2023 کے دوران مختلف مواقع پر فائر سیفٹی آڈٹ اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا جاتا رہا۔

پمز میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آنے والی یہ تفصیلات اسلام آباد کے اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے موجودہ نظام اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹسز پر عملدرآمد کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا رہی ہیں۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!