وزیراعظم نے نئی آٹو پالیسی کی منظوری دیدی
Webdesk
|
9 Sep 2026
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کی اصولی منظوری دیدی۔ ذرائع نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی اب آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی جائے گی، آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد آٹو پالیسی ای سی سی میں پیش کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد نئی آٹو پالیسی پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی، نئی آٹو پالیسی 2026-31 کے مسودے پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔
وزیراعظم میاں شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں ایک عرصے سے زیر التوا نئی آٹو پالیسی 2026-31 کے مسودے پر غور کیا گیا۔
نئی آٹو پالیسی کا مقصد مقامی آٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری، گاڑیوں کی برآمدات، مقامی پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی آٹو پالیسی میں ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر آئندہ 5 سال میں ٹیکس میں 20 فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ 851 سے 1000 سی سی اور 800 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی آئندہ 5 سال میں ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
پالیسی ڈرافٹ کے تحت 1800 سی سی سے زائد ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر آئندہ 5 سال کے دوران ٹیکس میں مرحلہ وار کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
1801 سی سی سے زائد ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی 5 سال میں مرحلہ وار 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جبکہ 1501 سے 1800 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد تک لانے کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق ہائبرڈ ٹرک پر ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ ہائبرڈ کمرشل گاڑیوں پر ڈیوٹی 60 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد جبکہ ہائبرڈ بسوں پر ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد تک لانے کی تیاری ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی آٹو پالیسی کے اعلان سے قبل آئی ایم ایف سے بھی منظوری لی جائے گی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پالیسی پر عملدرآمد شروع ہوگا۔مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی گاڑیوں پر ماحولیاتی لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے. جس سے حاصل ہونے والی آمدن برآمدات کے فروغ اور تحقیق و ترقی کے لیے مختص کی جائے گی۔
Comments
0 comment