کراچی میں 5 بہنوں کا اکلو6 سالہ بچہ اغوا اور زیادتی کے بعد قتل

کراچی میں 5 بہنوں کا اکلو6 سالہ بچہ اغوا اور زیادتی کے بعد قتل

واقعے میں پڑوسی حمزہ ملوث ہے جس کو پولیس نے گرفتار کرلیا، 2 ملزمان کی تلاش جاری
کراچی میں 5 بہنوں کا اکلو6 سالہ بچہ اغوا اور زیادتی کے بعد قتل

ویب ڈیسک

|

8 Jul 2026

شہر قائد کے علاقے لی مارکیٹ میں دو روز قبل چیز لینے کے لیے جانے والے 6 سالہ بچے کو اغوا کے بعد پڑوسی نے قتل کردیا۔

تفصیلات کے مطابق لی مارکیٹ کی پنجابی گلی میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں دو روز قبل گھر کے باہر سے اغوا ہونے والے 6 سالہ معصوم محمد ولی کی مسخ شدہ بوری بند لاش ایک تین منزلہ عمارت سے نیچے پھینکی ہوئی ملی۔ لرزہ خیز منظر دیکھ کر پورا علاقہ سوگ میں ڈوب گیا  اور جبکہ والدین پر قیامت ٹوٹ پڑی۔

تفصیلات کے مطابق کی مارکیٹ پنجابی گلی سے پیر کے روز گھر سے  چیز لینے کیلئے جانے والے 6 سالہ محمد ولی لاپتہ ہوا۔ واقعے کا مقدمہ ایک روز بعد نیپئر تھانے میں والد عابد حسین کی مدعیت میں اغوا کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا۔

مدعی کے مطابق میں رکشہ ڈرائیور ہوں جب دن بھر کی محنت مزدوری کرکے گھر پہنچا تو میری بیٹی ماہ نور نے بتایا کہ ولی دن ڈھائی بجے سے لاپتہ ہے دیر رات تک واپس نہیں آیا۔ بچے کو تلاش کیا ناکامی کی صورت میں مقدمہ درج کرایا گیا۔ مقدمہ اندراج کے بعد پولیس اہل خانہ اور اہل محلہ نے بچے کی تلاش 2 روز تک جاری رکھی تاہم بچہ نا مل سکا۔

دو روز بعد اسی محلے کےمکین لاپتہ بچے کے گھر اطراف موجود تھے کے ایک بھاری چیز کے زمین پر گرنے کی آواز آئی۔ اہل محلہ جب اس خالی پلاٹ پر پہنچے تو ایک بوری زمین پر پڑی ہوئی ملی۔ اہل علاقہ کے مطابق بوری تین منزلہ عمارت سے نیچے پھینکی گئی تھی جسے کھولنے پر اندر سے معصوم ولی کی لاش برآمد ہوئی۔

لاش کی اطلاع فوری طور پر پولیس کی دی گئی جس پر پولیس نے لاش تحویل میں لے کر سول اسپتال منتقل کردی۔ جبکہ اہل علاقہ نے حمزہ نامی ملزم کو اس تین منزلہ عمارت سے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس کے حوالے کردیا۔

اپنے لختے جگر کی موت کی خبر والدین اور اہل خانہ پر قیامت بن کو ٹوٹی۔ والدہ نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کے بچے کی مسخ شدہ لاش بوری میں بند کرکے عمارت سے نیچے پھینکی گئی۔ غم سے ٹوٹی ولی کی والدہ کہتی ہیں ہمارا بچہ ہم سے چھین لیا اب اس ملزم کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہونا چاہئیے۔

انہوں نے کہا جب تک خون کا بدلہ خون سے نہیں کیا جائیگا ہمارا انصاف پورا نہیں ہوگا۔ والد نے آبدیدہ ہو کر کہا کہ وہ رکشہ چلا کر اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں، چار بیٹیوں کے بعد منت مرادوں سے ایک بیٹا پیدا ہوا تھا، لیکن ظالموں نے ان کی دنیا اجاڑ دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی میرے جگر کا ٹکڑا محمد ولی پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور سب کا لاڈلہ تھا۔ انہوں نے سندھ حکومت، پولیس اور متعلقہ اداروں سے واقعے کا نوٹس لے کر ملزم کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا ملزم ایک عادی مجرم ہے اگر یہ باہر آگیا تو یہ اور بھی بچوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا سکتا ہے آج میرا بیٹا نا حق مارا گیا کل کسی اور کا بچہ اسکا نشانہ بنے گا۔ مقتول ولی کی بہن ماہ نور  اپنے چھوٹے بھائی کی لاش دیکھ کر زاروقطار روتی رہی اور سوال کرتی رہی کہ میرے چھوٹے بھائی کو کیوں مارا وہ بہت پیارا تھا اسکا کیا قصور تھا؟

اہل خانہ اور علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ واردات پڑوسی کے گھر میں ہوئی، ملزم دو روز تک بچے کی تلاش کا ڈرامہ بھی کرتا رہا اور انہیں اپنے گھر میں داخل ہونے نہیں دیا۔ ملزم نے جس کمرے میں بچے کی لاش رکھی وہاں خون کے نشانات بھی موجود تھے ۔ ملزم سے جب اسکے گھر کے مخصوص کمرے میں جانے کا بولا گیا تو اس نے چابی نا ہونے کا بہانا کرتے ہوئے بتایا کہ کمرے پر لگے ہوئے تالے کی چابی بھابی اپنے ہمراہ پنجاب لے گئی ہیں۔ 

ڈی آئی جی ساوتھ اسد رضا کے مطابق گرفتار ملزم مقتول بچے کا پڑوسی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بچے کے ساتھ زیادتی کے بعد اسے قتل کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو نیپئر تھانے میں درج مقدمے 92/26 میں نامزد کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے سفاک قاتل کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

علاقہ مکین بلاول کے مطابق پولیس کو ملزم کے گھر میں تالے لگے کمرے کو کھولنے کا بارہا کہا گیا لیکن انکی جانب سے بھی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ پولیس نے محلےکے تمام گھروں کی تلاشی لی۔

بلاول کے مطابق ملزم حمزہ کے گھر میں مکین دیگر 2 افراد تھے جو فرار ہوگئے ہیں جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!