1 hour ago
نور مقدم کیس، ظاہر جعفر کی سزائے موت کیخلاف نظرثانی اپیل سپریم کورٹ نے مسترد کردی
ویب ڈیسک
|
20 Aug 2026
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی درخواست خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا۔ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ ظاہر جعفر نے ایسا کوئی نیا یا قابلِ غور شواہد پیش نہیں کیا جس کی بنیاد پر پہلے دیے گئے فیصلے پر نظرثانی کی جاسکے۔
عدالت کے مطابق ریکارڈ سے واضح ہے کہ مجرم انتہائی سنگین جرم کا مرتکب ہوا اور اس کا جرم ایسا نہیں جس کی سزا میں کمی کی گنجائش نکلتی ہو۔
ظاہر جعفر نے اپنی ذہنی حالت کو بنیاد بناتے ہوئے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نظرثانی کے مرحلے پر عدالت کا دائرہ اختیار انتہائی محدود ہوتا ہے اور نظرثانی کی درخواست کو اپیل کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔
فیصلے میں خواتین کے خلاف تشدد کے معاملے پر بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسلام نے خواتین کو تحفظ اور احترام دیا ہے، جبکہ خواتین کو تشدد، خوف اور عدم تحفظ کا شکار بنانا شرعی اور ملکی قوانین کے منافی ہے۔
عدالت نے فیصلے میں خواتین کے قتل سے متعلق اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کا بھی حوالہ دیا۔
نور مقدم قتل کیس میں ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو زیادتی اور قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی، جسے اسلام آباد ہائیکورٹ نے برقرار رکھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
سپریم کورٹ کا تازہ فیصلہ نور مقدم کے اہل خانہ اور خواتین کے خلاف سنگین جرائم پر انصاف کے منتظر حلقوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ عدالت نے واضح کردیا ہے کہ سنگین اور ثابت شدہ جرم میں محض نظرثانی کی درخواست کے ذریعے سزا میں کمی نہیں کرائی جاسکتی۔
Comments
0 comment