4 hours ago
سابق سینیٹر مشتاق احمد کو حراست میں لیے جانے اور نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کا دعویٰ
ویب ڈیسک
|
30 Jul 2026
سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کے ساتھیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں آزاد جموں و کشمیر جاتے ہوئے روکنے کے بعد واپسی پر پنجاب پولیس نے حراست میں لے لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
بیان کے مطابق مشتاق احمد خان 28 جولائی کو اپنی ٹیم کے ہمراہ سفید پرچم لے کر آزاد کشمیر روانہ ہوئے تھے۔ انہیں آزاد پتن پل پر روک کر آزاد کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر انہوں نے احتجاج ریکارڈ کرایا۔
ساتھیوں کے مطابق اسلام آباد واپسی کے دوران رات تقریباً 7 بج کر 7 منٹ پر کہوٹہ بازار کے مقام پر پنجاب پولیس نے انہیں روک لیا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کہوٹہ سرکل کے ڈی ایس پی وقار نے گاڑی کے ڈرائیور سے اسٹیئرنگ لے کر خود گاڑی چلائی اور مشتاق احمد خان کو اپنے ساتھ لے گئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مشتاق احمد خان کی براہ راست رابطے میں نہ ہونے پر ان کی براہِ راست مقام کی معلومات حاصل کی گئیں، جس سے معلوم ہوا کہ انہیں راوت تھانے منتقل کیا گیا ہے۔ تاہم وہاں پہنچنے والے ساتھیوں کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
ساتھیوں کے مطابق مشتاق احمد خان سے آخری مرتبہ 29 جولائی کو رات 12 بج کر 26 منٹ پر رابطہ ہوا، جب انہوں نے بتایا کہ راولپنڈی کے بعض اعلیٰ حکام ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد سے ان کے بارے میں مزید معلومات نہیں مل سکیں۔
دوسری جانب ساتھیوں کا کہنا ہے کہ رات ایک بج کر 20 منٹ پر راوت تھانے سے رابطہ کیا گیا تو ایس ایچ او راجا افتخار نے مشتاق احمد خان کے تھانے میں موجود ہونے کی تردید کرتے ہوئے ان کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی۔
مشتاق احمد خان کے ساتھیوں نے وفاق اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے موجودہ نقان اور خیریت سے متعلق فوری طور پر آگاہ کیا جائے، انہیں اہل خانہ اور وکیل تک رسائی دی جائے اور اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ یا قانونی کارروائی ہے تو اس کی تفصیلات سامنے لائی جائیں۔
بیان میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ موجود نہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
Comments
0 comment