2 hours ago
سعودی عرب، 14 ہزار تارکین بے دخل
Webdesk
|
18 Jan 2026
ریاض: سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی خلاف ورزیوں پر مزید 18 ہزار 54 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ 14 ہزار 621 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
8 سے 14 جنوری 2026 کے درمیان 11 ہزار 343 اقامہ قانون، 3 ہزار858 بارڈر سکیورٹی اور 2 ہزار 853 قانون محنت کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔غیرقانونی طور پر سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار419 افراد کو گررفتار کیا گیا، ان میں 59 فیصد ایتھوپین، 40 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں 18 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے سعوی عرب سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 23 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانونا جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائیداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Comments
0 comment