سعودی عرب کی حوثیوں پر حملے کی درخواست پر ٹرمپ کا صاف انکار

سعودی عرب کی حوثیوں پر حملے کی درخواست پر ٹرمپ کا صاف انکار

محمد بن سلمان نے جمعرات کو صدر ٹرمپ سے دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔
سعودی عرب کی حوثیوں پر حملے کی درخواست پر ٹرمپ کا صاف انکار

Webdesk

|

11 Sep 2026

ریاض: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن میں حوثیوں کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی اور بحیرہ احمر کے اہم راستے کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف براہ راست فوجی حملے کرنے کی درخواست کی، تاہم ٹرمپ نے اس درخواست سے انکار کردیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو صدر ٹرمپ سے دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔

پہلی گفتگو میں سعودی ولی عہد نے یمن کی بگڑتی صورتِ حال سے آگاہ کیا، جبکہ چند گھنٹوں بعد دوسری کال میں انہوں نے امریکا سے حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کرنے پر زور دیا۔

امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے براہِ راست فوجی کارروائی کی درخواست قبول نہیں کی اور فی الحال حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی مداخلت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حوثی فورسز یمن کے ساحلی شہر مخا کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کو پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔

 حوثیوں کی بحیرہ احمر کے اہم علاقے میں بڑھتی موجودگی کے باعث باب المندب کے قریب صورتِ حال مزید اہم ہوگئی ہے۔باب المندب آبنائے عالمی تجارت اور سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں پہلے ہی رکاوٹیں پیدا ہونے کے بعد باب المندب پر حوثیوں کے ممکنہ کنٹرول نے امریکا اور خلیجی اتحادیوں کی تشویش بڑھا دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا یمن میں تیزی سے بڑھتی کشیدگی پر نظر رکھے ہوئے ہے اور سعودی عرب کی مدد بھی بڑھا رہا ہے، تاہم واشنگٹن براہ راست فوجی جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر بھی جمعرات کو ہنگامی رابطوں اور مشاورت کے لیے سعودی عرب پہنچے۔ تاہم واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے اور وائٹ ہاس نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!