میٹا پر بچوں کی صحت خراب کرنے پر بڑا جرمانہ، عدالت کا رقم ادا کرنے کا حکم

میٹا پر بچوں کی صحت خراب کرنے پر بڑا جرمانہ، عدالت کا رقم ادا کرنے کا حکم

کمپنی نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار ہے
میٹا پر بچوں کی صحت خراب کرنے پر بڑا جرمانہ، عدالت کا رقم ادا کرنے کا حکم

Webdesk

|

7 Aug 2026

میکسیکو: امریکی ریاست نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا کی معروف کمپنی میٹا کو بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے اور انہیں انٹرنیٹ کے خطرات سے صحیح طرح نہ بچانے کے جرم میں 567 ملین ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے اور اپنے پلیٹ فارمز میں اہم تبدیلیاں کرنے کا حکم دیا ہے۔

 عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کمپنی نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار ہے اور اس نے اپنے ایپس کے ذریعے بچوں کی زندگیوں پر برا اثر ڈالا ہے۔

برطانوی خبرساں ایجبسی رائٹرز کے مطابق یہ فیصلہ سانتا فے کے جج برائن بیڈشائیڈ نے سنایا۔ انہوں نے ڈیموکریٹ اٹارنی جنرل رال ٹوریز کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی چیزیں بنائیں جن کی وجہ سے بچوں کو ان کی لت لگ گئی اور وہ خطرات کا شکار ہوئے۔

اٹارنی جنرل نے میٹا پر الزام لگایا تھا کہ اس نے بچوں کو نقصان دہ چیزوں اور جنسی استحصال سے بچانے کے لیے ضروری قدم نہیں اٹھائے۔

یہ مقدمہ نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راول ٹوریز نے دائر کیا تھا۔ ان کا مقف تھا کہ میٹا نے اپنے کاروباری مفادات کو بچوں کی حفاظت پر ترجیح دی، جس کے باعث نوجوانوں کی ذہنی صحت متاثر ہوئی۔فیصلے کے بعد راول ٹوریز نے کہا، میٹا نے بچوں کی حفاظت کے بجائے منافع کو ترجیح دی۔

انہوں نے مزید کہا، یہ صرف ایک کمپنی کے خلاف فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایسا نمونہ ہے جس پر چلتے ہوئے دوسری ریاستیں اور دیگر ممالک بھی اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔یہ مقدمہ دو حصوں میں چلا تھا۔

اس سے پہلے مارچ میں ایک جیوری نے کمپنی کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا کہ اس نے فیس بک اور انسٹاگرام کی حفاظت کے بارے میں لوگوں سے سچ نہیں بولا اور بچوں کی ذہنی صحت کو پہنچنے والے نقصان کو چھپایا۔

اس وقت کمپنی پر 375 ملین ڈالر کا جرمانہ لگایا گیا تھا اور اب دوسرے مرحلے میں عدالت نے مزید رقم ادا کرنے کا حکم سنایا ہے۔عدالت کے نئے حکم کے مطابق اس رقم میں سے 420 ملین ڈالر بچوں کے علاج اور ان کی دیکھ بھال کی سہولیات پر خرچ کیے جائیں گے جبکہ باقی رقم اگلے پانچ سالوں میں بیماریوں سے بچا، آگاہی مہمات اور جانچ پڑتال کے پروگراموں پر خرچ ہو گی۔

اس کے علاوہ عدالت نے کمپنی کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کے لیے اپنے ایپ پر نئی پابندیاں اور اقدامات شامل کرے۔ ان اقدامات میں فیس بک اور انسٹاگرام استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کے لیے ماہانہ استعمال کی حد مقرر کرنا، غیر ضروری نوٹیفکیشنز محدود کرنا، بالغ افراد اور کم عمر صارفین کے درمیان رابطوں پر مزید سخت نگرانی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹس کے لیے حفاظتی اقدامات اور بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق شکایات کا زیادہ مثر جائزہ لینا شامل ہے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!