مچھر کے کاٹنے پر کھجانے کا مزہ کتنا نقصان دہ ہوسکتا ہے؟

مچھر کے کاٹنے پر کھجانے کا مزہ کتنا نقصان دہ ہوسکتا ہے؟

سوال یہ ہے کہ جب کھجانے سے اتنی راحت ملتی ہے تو یہ بری بات کیسے ہو سکتی ہے؟
مچھر کے کاٹنے پر کھجانے کا مزہ کتنا نقصان دہ ہوسکتا ہے؟

Webdesk

|

30 Jun 2026

کراچی: ہم سب بچپن سے سنتے چلے آ رہے ہیں کہ جب کوئی مچھر یا کیڑا کاٹ لے تو وہاں کھجانا نہیں چاہیے کیونکہ اس سے زخم خراب ہو جاتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جب کھجانے سے اتنی راحت ملتی ہے تو یہ بری بات کیسے ہو سکتی ہے؟ اب سائنسدانوں نے اس بات کا پتا لگا لیا ہے کہ اگر آپ ایک معمولی سی کھجلی کے سامنے ہار مان لیتے ہیں تو آپ کس طرح خود کو مصیبت میں ڈال دیتے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کیڑے کے کاٹنے یا الرجی کی وجہ سے ہونے والی خارش وقتی طور پر سکون دیتی ہے. لیکن یہی عمل بعد میں سوجن اور خارش کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر ڈینیئل کپلان کا کہنا ہے ان کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جب انسان یا جانور خارش کو مسلسل کھجاتے ہیں تو جسم میں سوزش پیدا کرنے والے خلیے زیادہ فعال ہو جاتے ہیں۔ جس سے مسئلہ بڑھ جاتا ہے۔

ان کے مطابق، اگر آپ مچھر کے کاٹنے کو نہ چھیڑیں تو چند منٹ میں خارش ختم ہو جاتی ہے، لیکن اگر آپ اسے کھجانا شروع کر دیں تو یہ ایک ہفتے تک آپ کے ساتھ رہ سکتی ہے۔

جس کا مطلب ہے کہ وہ جگہ اور زیادہ سرخ ہو جاتی ہے اور اس میں شدید کھجلی ہونے لگتی ہے۔

تحقیق کے دوران ڈینیئل کیپلان اور ان کی ٹیم نے چوہوں پر ایک تجربہ کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کھجانے سے جسم کے اندر کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔

انہوں نے چوہوں کے کانوں پر الرجی پیدا کرنے والی چیز لگائی .جس سے انہیں کھجلی ہونے لگی۔

کچھ چوہوں کو ایسے کالر پہنائے گئے جن سے وہ خود کو کھجا نہیں سکتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جن چوہوں نے نہیں کھجایا، ان کے کانوں پر سوجن اور درد بہت کم تھا۔

تحقیق کے مطابق، ہمارے جسم میں ایسے خلیے ہوتے ہیں جو کسی بھی الرجی یا درد کے وقت سب سے پہلے حرکت میں آتے ہیں۔

ان خلیوں کو ماسٹ سیلز کہا جاتا ہے۔ جب ہم کسی جگہ کو تب تک کھجاتے ہیں جب تک وہاں درد نہ شروع ہو جائے، تو ہمارے جسم کی نسیں ایک خاص کیمیکل چھوڑتی ہیں۔

یہ کیمیکل الرجی والے خلیوں کو اور زیادہ بھڑکا دیتا ہے، جس سے سوجن اور کھجلی کا ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔

ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ پرانے زمانے میں کھجانے کا فائدہ شاید یہ ہوتا تھا کہ جسم پر موجود چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑے جھڑ جاتے تھے۔

چوہوں پر کیے گئے تجربے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کھجانے سے ایک خاص قسم کے جراثیم سے لڑنے میں مدد ملی۔ لیکن اس چھوٹے سے فائدے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کھجانا شروع کر دیں۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!