1 hour ago
مومنہ اقبال ہراسانی کے مقدمے کو ذاتی معاملہ قرار دینے پر آگ بگولہ
Webdesk
|
22 Jul 2026
لاہور: معروف اداکارہ مومنہ اقبال نے واضح کیا ہے کہ ہراسانی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں جیسے الزامات کو کسی صورت ذاتی معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ معاملہ اس وقت زیرِ بحث آیا جب پنجاب اسمبلی کے باہر ایک ٹی وی رپورٹر نیرکنِ پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ سے ان پر قائم مقدمے سے متعلق سوال کیاجس پر ثاقب چدھڑ نے جواب دیا کہ میڈیا میری ذاتی زندگی سے متعلق سوالات نہ کرے اور صرف اسمبلی کے امور پر بات کرے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مومنہ اقبال نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کئی سال کی ہراسانی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کو ذاتی معاملہ قرار دینا حیران کن ہے، آج بھی مجھے تعجب ہوتا ہے کہ ابتدا سے ہی اس کیس کو ذاتی مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
معروف اداکارہ نے مزیدکہاکہ میں نے ریاستی اداروں سے ہراسانی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے خلاف تحفظ اور انصاف طلب کیا، اس لیے ایسے سنگین الزامات کو نجی معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا،اگر ایسے مقدمات کو ذاتی معاملہ مان لیا جائے تو پھر گھریلو تشدد، رشتے داروں کے ہاتھوں قتل اور دیگر سنگین جرائم کو بھی نجی معاملات قرار دینا پڑے گا جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
مومنہ اقبال نے الزام عائد کیا کہ مسلسل کوشش کی گئی کہ میرا مقدمہ میڈیا کی توجہ سے دور رکھا جائے اور میری آواز دبائی جائے، تاہم میری خاموشی کو کمزوری یا دباو کا نتیجہ نہ سمجھا جائے،میں نے صرف اس لیے صبر سے کام لیا کیونکہ مجھے عدالتی کارروائی، قانون کی حکمرانی اور میرٹ پر ہونے والے فیصلوں پر مکمل اعتماد ہے۔
اداکارہ نے سوشل میڈیا پر زیرِ گردش صلح کی خبروں کی ایک بار پھر تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں دوبارہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ کسی قسم کی مفاہمت نہیں ہوئی، مقدمہ اب بھی عدالت میں زیرِ سماعت ہے، دوسری جانب سے ہر پیشی پر التوا کی درخواست کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ مومنہ اقبال کے وکیل اس سے قبل دعوی کر چکے ہیں کہ اداکارہ اور ملزم 2022 سے ایک دوسرے کو جانتے تھے، شادی کی پیشکش بھی کی گئی تھی، تاہم بعد میں مومنہ کو معلوم ہوا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں اور مبینہ طور پر تیسری شادی کرنا چاہتے تھے، جس کے بعد انہوں نے رشتہ مسترد کر دیا۔
وکیل کے مطابق ا س کے بعد اداکارہ کو دھمکیاں ملنا شروع ہوئیں، جس پر انہوں نے قانونی کارروائی کا آغاز کیا، یہ مقدمہ تاحال عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
Comments
0 comment