مودی سرکار کے 5 اگست کے فیصلے کے بعد کشمیریوں کو کن نقصانات کا سامنا کرنا پڑا؟

مودی سرکار کے 5 اگست کے فیصلے کے بعد کشمیریوں کو کن نقصانات کا سامنا کرنا پڑا؟

ابتدائی دو برسوں میں وادی کی معیشت کو اربوں ڈالر کے مساوی نقصان پہنچا
مودی سرکار کے 5 اگست کے فیصلے کے بعد کشمیریوں کو کن نقصانات کا سامنا کرنا پڑا؟

ویب ڈیسک

|

5 Aug 2026

آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر کے عوام کو کئی سماجی، معاشی اور انسانی مسائل کا 7 سال گزر جانے کے بعد آج بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

معاشی نقصان

مقامی تاجروں کی تنظیموں کے مطابق مسلسل پابندیوں، کرفیو اور انٹرنیٹ بندش کے باعث ابتدائی دو برسوں میں وادی کی معیشت کو اربوں ڈالر کے مساوی نقصان پہنچا۔ سیاحت، قالین سازی، سیب کی صنعت، دستکاری اور چھوٹے کاروبار شدید متاثر ہوئے۔

تعلیمی نقصان

انٹرنیٹ کی طویل بندش اور تعلیمی اداروں کی بندش سے لاکھوں طلبہ متاثر ہوئے۔ آن لائن تعلیم بھی کئی مہینوں تک ممکن نہ رہی۔

انسانی حقوق

بین الاقوامی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹس میں سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کی گرفتاریوں، اظہارِ رائے پر پابندیوں اور میڈیا کی آزادی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔

آبادیاتی خدشات

کشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین اور زمین سے متعلق قوانین میں تبدیلیوں کے بعد مقامی سیاسی جماعتوں اور کشمیری تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے خطے کی آبادیاتی ساخت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ بھارتی حکومت نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے کی گئی ہیں۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!