کراچی کی گورننس پر سوالات اٹھ رہے ہیں، وفاق اپنا کردار ادا کرے، ایم کیو ایم کا وزیراعظم سے پھر مطالبہ
ویب ڈیسک
|
28 Jan 2026
کراچی میں گل پلازہ کے افسوسناک سانحے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان نے پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم سندھ حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے انتظامی اور سیکیورٹی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سندھ میں طرزِ حکمرانی کو “جاگیردارانہ اور جابرانہ” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو اس کے آئینی اور انتظامی حقوق سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے گل پلازہ سانحے پر آزاد عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ نظامی ناکامیوں کا نتیجہ ہے، جن کا غیر جانبدارانہ جائزہ ضروری ہے۔
انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ تاہم سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی رہنما کی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔
ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے بھی جواب طلبی کا مطالبہ کیا، جبکہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو آئین کے آرٹیکل 140-A پر عملدرآمد کی یاد دہانی کرائی، جس کے تحت اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جانے چاہئیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے خبردار کیا کہ اگر کراچی کے مسائل کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو شہر میں مزید بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، اور کہا کہ شہر کی بہتری کے لیے محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
Comments
0 comment