1 hour ago
نپاہ وائرس پھیلنے کے خدشات، حکومت نے سخت اقدامات شروع کردیے
ویب ڈیسک
|
30 Jan 2026
پاکستان میں نِپاہ وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشے کے باعث حکومت نے حفاظتی اور نگرانی کے اقدامات مزید بڑھا دیے ہیں۔
قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے حکام نے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کو آگاہ کیا ہے کہ اگرچہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات کم ہیں، تاہم جانوروں میں اس کے قدرتی ذخائر کی موجودگی کے باعث خطرے کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
حکومتی ہدایات کے مطابق ملک کے تمام ہوائی، بحری اور زمینی داخلی راستوں پر مسافروں کی سخت اسکریننگ شروع کر دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نِپاہ وائرس کے مشتبہ کیسز کی اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے، جہاں سے سرحد پار وائرس منتقل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وزارتِ قومی صحت کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر جمعرات کو ایک اہم اجلاس منعقد ہوا،
جس میں وائرس سے نمٹنے کی تیاریوں اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر عبد الولی خان نے کی۔
ڈاکٹر عبد الولی خان نے بتایا کہ این آئی ایچ کے ماہرین نے اجلاس کو یقین دلایا کہ پاکستان میں نِپاہ وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ فی الحال کم ہے، تاہم جانوروں کی کچھ اقسام میں وائرس کی موجودگی کے باعث مکمل احتیاط ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری سہولیات اور تشخیصی کٹس دستیاب ہیں، تاہم نِپاہ وائرس کے علاج کے لیے تاحال کوئی مؤثر ویکسین یا مخصوص دوا موجود نہیں۔
ہیلتھ سیکریٹری حامد یعقوب شیخ نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان میں اب تک نِپاہ وائرس کا کوئی تصدیق شدہ کیس سامنے نہیں آیا، لیکن ہمسایہ ممالک میں موجود ماحولیاتی حالات کے باعث چوکس رہنا ناگزیر ہے۔
اجلاس میں وفاقی سطح کے اسپتالوں، نگرانی کے نظام، بارڈر ہیلتھ سروسز اور دارالحکومت کے بڑے طبی اداروں کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ماہرین کے مطابق نِپاہ وائرس ایک جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا مرض ہے، جس کے قدرتی میزبان پھل کھانے والے چمگادڑ اور سور ہیں۔ اب تک اس وائرس کے انسانی پھیلاؤ کے کیسز ایشیا کے چند مخصوص علاقوں تک محدود رہے ہیں۔
Comments
0 comment