سانحہ گل پلازہ کے بعد سندھ حکومت نے کیا اقدامات کیے؟ اگلا قدم کیا ہے؟
ویب ڈیسک
|
29 Jan 2026
کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گل پلازہ سانحے کے بعد سندھ کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا، جس میں پانچ رکنی ذیلی کمیٹی کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پر غور کیا گیا۔ یہ رپورٹ کمشنر کراچی اور اے آئی جی کراچی نے تیار کی تھی اور اب اسے میڈیا کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا ہے۔
اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کی، جس میں رپورٹ کی روشنی میں اہم فیصلے کیے گئے۔ حادثے کے وقت عمارت میں تقریباً 2000 سے 2500 افراد موجود تھے، جن میں دکانوں کے ملازمین اور گاہک شامل تھے۔ ریسکیو عملے نے بہت سے لوگوں کو محفوظ نکالا، جبکہ اس سانحے میں 80 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
سینئر وزیر شرجہیل انعام میمن نے کمشنر کراچی حسن نقوی اور اے آئی جی کراچی آزاد خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کے بعد یہ مشاہدہ ہوا کہ سول ڈیفنس نے گل پلازہ سمیت دیگر عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹس کیے، تاہم اس سلسلے میں کوئی مؤثر اصلاحی اقدامات یا قانونی نفاذ عمل میں نہیں لایا گیا۔
ڈائریکٹر سول ڈیفنس اور ایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفنس کراچی نے معاملے کو مناسب طریقے سے نہیں سنبھالا اور کوئی کارروائی نہیں کی۔
گل پلازہ کی انتظامیہ کو دو مرتبہ نوٹسز دیے گئے کہ فائر سیفٹی کے حوالے سے مناسب انتظامات موجود نہیں ہیں۔ کارروائی نہ کروانے پر ڈائریکٹر سول ڈیفنس اور ایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفنس جنوبی کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور متعلقہ قواعد کے تحت محکماتی کارروائی کی جائے گی۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی، جس سے فائر فائٹنگ متاثر ہوئی۔ چیف انجینئر بلک اور انچارج ہائڈرنٹس کراچی واٹر کارپوریشن کو فوری طور پر معطل کیا گیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ کسی اور کی غفلت بھی سامنے آئی تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کے ایم سی اور ریسکیو 1122 کے پاس اس قسم کی آگ سے نمٹنے کے لیے فائر فائٹنگ آلات، تربیت اور عمل صلاحیت ناکافی تھی، تاہم شدید وسائل کی کمی اور مشکلات کے باوجود کے ایم سی اور ریسکیو 1122 کے عملے نے نہایت جرئت اور لگن کا مظاہرہ کیا۔ اس دوران فائرمین فرقان شوکت شہید ہوئے، جنہیں ہم سلام پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز کے ایم سی کو فوری طور پر معطل کیا جائے گا، اور فائر اسٹاف کی صلاحیت یقینی بنانے میں ناکامی پر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی، متعلقہ محکمہ فوری طور پر ایک جامع نیڈ اسسمینٹ کرے گا تاکہ صوبائی اور بلدیاتی اداروں کی فائر فائٹنگ صلاحیتیں بہتر اور مضبوط بنائی جا سکیں، جس میں آلات، تربیت، افرادی قوت اور انفراسٹرکچر شامل ہوگا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ اس جائزے کی بنیاد پر مستقل اقدامات کیے جائیں گے تاکہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔ وزیر اعلیٰ سندھ پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ کے ایم سی، ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کو ایک چھتری تلے لانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ ان کی صلاحیت میں اضافہ ہو اور وسائل کی کمی نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کی انتظامیہ کے پاس مناسب فائر پری وینشن، فائر ڈٹیکشن اور فائر فائٹنگ سسٹم موجود نہیں تھا، جس کی پہلے ہی تحریری طور پر نشاندہی کی گئی تھی۔ اس پر عملی کارروائی نہ ہونے پر سول ڈیفنس کے دو افسران کو معطل کیا گیا ہے۔
اُن کے مطابق انتظامیہ کو بتایا گیا تھا مگر انہوں نے انتظامات نہیں کیے۔ عمارت کی تعمیر منظور شدہ بلڈنگ پلان کے خلاف کی گئی، جس کے باعث عوام کے محفوظ انخلاء اور فائر فائٹنگ میں دشواری ہوئی۔ انتظامیہ نے نوٹسز کے باوجود اصلاحی اقدامات نہیں کیے، لہٰذا فیصلہ کیا گیا کہ انتظامیہ کے کردار اور طرز عمل کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر کوئی فوجداری غفلت ثابت ہوئی تو قانونی کارروائی ہوگی۔
کمیٹی نے بلڈنگ کی منظوریوں اور لیز میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔ ایس بی سی اے، سابق اداروں اور کے ایم سی کے کردار کا 1979، 1983، 1986، 1991، 1998، 2003 اور 2015 میں دی گئی منظوریوں اور لیز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
مزید یہ دیکھا جائے گا کہ گل پلازہ کے حوالے سے فائر اور بلڈنگ سیفٹی قوانین پر عمل ہوا یا نہیں ہوا۔ اینٹی کرپشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس پر جائزہ لے اور قانون کے مطابق کارروائی کرے۔، انہوں ںے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا گیا ہے اور ہائی کورٹ کے ایک حاضر جج کو مقرر کیا جائے گا تاکہ وہ قانونی طور پر انکوائری کریں اور جائزہ لیں۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت نے کبھی اپنے آپ کو بری الذمہ نہیں سمجھا۔ جہاں جہاں حکومت کی کوتاہی ہوئی، وہاں اس کا اعتراف کیا گیا، اور جہاں کسی اور ادارے کی کوتاہی تھی، اس کی بھی نشاندہی کی گئی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے اس اندوہناک سانحے پر سیاست کی کوشش کی، حالانکہ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں۔ حکومت نے بغیر کسی تشہیر کے شہداء کے لواحقین کی امداد کی ہے۔ جو ادوار میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، ان کی اینٹی کرپشن انکوائری کرے گی۔ حکومت کسی سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ عوام کو جوابدہ ہے، اسی لیے اپنی کوتاہیوں کو بھی واضح کیا گیا۔ایک اور سوال کے جواب میں اے آئی جی آزاد خان نے بتایا کہ آگ ایک پھولوں کی دکان میں لگی، جہاں ایک 11 سال کا بچہ موجود تھا۔ اے آئی جی کراچی آزاد خان نے بتایا کہ دکان میں ایک 11 سال اور ایک 13 سال کا بچہ کھیل رہے تھے، جس سے حادثاتی طور پر آگ لگی، جس کا خود بچوں نے بھی اعتراف کیا۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کسی دباؤ میں نہیں ہے۔ کراچی میں 1100 سے زائد آگ کے واقعات ہوئے ہیں، لیکن یہ سانحہ سب سے بڑا تھا، اور حکومت نے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف بھی کیا ہے۔
شرجیل انعام میمن نے زور دیا کہ حکومت کسی پر الزام تراشی نہیں کرنا چاہتی بلکہ مقصد حقائق کو شفاف طور پر سامنے لانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جوڈیشل کمیشن ایم کیو ایم کی ڈیمانڈ پر نہیں بنایا گیا۔ حکومت کسی سیاسی دباؤ یا پوائنٹ اسکورنگ کے تحت فیصلے نہیں کر رہی اور تمام شواہد عدالت یا جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ ابتدائی فائنڈنگز میں ہر متعلقہ افسر اور ادارے کی ذمہ داری واضح ہے، اور اگر کسی کی غفلت سامنے آئی تو اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔ فیصلے کا اختیار اور وقت کا تعین متعلقہ جج یا کمیشن کرے گا، اور حکومت شفاف اور درست معلومات فراہم کرنے کے لیے مکمل ذمہ داری کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
Comments
0 comment