میر رضا کیس کے جوڈیشل کمیشن کی پہلی سماعت، معلومات فراہم کرنے والے کو 1 لاکھ روپے انعام دینے کا فیصلہ

میر رضا کیس کے جوڈیشل کمیشن کی پہلی سماعت، معلومات فراہم کرنے والے کو 1 لاکھ روپے انعام دینے کا فیصلہ

میں ایک ماہ میں رپورٹ مکمل کروں گا اور اس دوران وزیراعلی سے بھی نہیں ملوں گا، سربراہ جوڈیشل کمیشن
میر رضا کیس کے جوڈیشل کمیشن کی پہلی سماعت، معلومات فراہم کرنے والے کو 1 لاکھ روپے انعام دینے کا فیصلہ

عمیر دبیر

|

28 Aug 2026

کراچی: میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے کہا ہے کہ یہ صرف ایک میر رضا کا معاملہ نہیں بلکہ ایسے کئی میر رضا کے لیے ہے، آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کا معاملہ اجاگر ہوگیا۔ کمیشن کو ایک ماہ میں اپنی رپورٹ مکمل کرنی ہے اور اس دوران وہ کسی سے ملاقات نہیں کریں گے، حتیٰ کہ وزیراعلیٰ سندھ بھی ملاقات کے لیے آئیں تو ان سے نہیں ملیں گے۔ کمیشن نے کیس سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے واٹس ایپ نمبر اور سرکاری ای میل جاری کرنے جبکہ اہم معلومات فراہم کرنے والے شخص کو ایک لاکھ روپے انعام دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ہوا، جس میں میر رضا کے اہل خانہ، وکیل جبران ناصر اور سندھ حکومت کے فوکل پرسن سمیت دیگر متعلقہ افراد شریک ہوئے۔

اجلاس کے آغاز پر میر رضا کی مغفرت کے لیے دعا کی گئی۔ میر رضا کے والد میر حسین علی نے کمیشن کے سامنے اپنا تعارف کرایا۔

جسٹس عمر سیال نے میر رضا کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اہل خانہ کے غم اور درد کا بخوبی اندازہ ہے، تاہم ان کے کہنے سے اہل خانہ کا درد کم نہیں ہوگا۔

سماعت کے دوران وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو میر رضا کیس کے ابتدائی واقعات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 28 جولائی کو رات چار بجے میر رضا گھر سے نکلا تھا، جبکہ سی سی ٹی وی میں اسے آخری مرتبہ صبح ساڑھے چار بجے زندہ دیکھا گیا۔

جبران ناصر کے مطابق میر رضا کی لاش 29 جولائی کو جناح اسپتال منتقل کی گئی، تاہم لاش کو ابتدائی طور پر کسی پولیس کارروائی کے بغیر اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسی روز لاش کا پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ جناح اسپتال میں ایس آئی پی ندیم کو لاش سے برآمد ہونے والی اشیا حوالے کی گئیں جبکہ پوسٹ مارٹم اس وقت کے میڈیکو لیگل افسر اسامہ شیخ نے کیا۔

وکیل نے بتایا کہ میر رضا کی لاش ملنے سے قبل ہی اغوا کا مقدمہ درج کرلیا گیا تھا اور گمشدگی کے تقریباً گیارہ گھنٹے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔

جبران ناصر نے بتایا کہ نرسری کے ملازمین یاسر اور قیصر کی نشاندہی پر لاش برآمد ہوئی تھی۔

جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ کیا انہی افراد نے پولیس کو معلومات فراہم کرکے موقع پر بلایا تھا، جس پر جبران ناصر نے جواب دیا کہ انہی افراد نے پولیس کو پہلی معلومات فراہم کی تھیں۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ ان تمام افراد کو بیان کے لیے کمیشن کے سامنے طلب کرلیا جائے گا۔ نرسری کے ملازمین، ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکاروں اور ان پولیس اہلکاروں کو بھی طلبی کے نوٹس جاری کیے جائیں گے جنہوں نے سب سے پہلے لاش دیکھی تھی اور میڈیکو لیگل افسر کو طلب کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میر حسین علی کمیشن کو ابتدائی تین دنوں کی تمام معلومات فراہم کریں گے، جبکہ سندھ حکومت کے فوکل پرسن نے یقین دہانی کرائی کہ کمیشن کو درکار تمام دستاویزات فراہم کی جائیں گی۔

جسٹس عمر سیال نے تفتیشی افسر سراج لاشاری کو کمیشن کی معاونت کے لیے طلب کرنے سے متعلق بھی استفسار کیا، جس پر بتایا گیا کہ وہ بھی دستیاب ہوجائیں گے۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن کی کوشش ہوگی کہ اس معاملے میں شفافیت کے ساتھ تحقیقات کی جائیں اور عوام کا اداروں پر اعتماد بہتر بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ چاہے وزیراعلیٰ ہوں، عدالت ہو یا کمیشن، قانون کے مطابق کوئی بھی خود سے تحقیقات نہیں کرسکتا۔

جسٹس عمر سیال نے واضح کیا کہ وہ کمیشن کو روایتی انداز میں نہیں چلائیں گے اور جو کچھ ہوگا سب لوگوں کے سامنے ہوگا۔ ان کے مطابق کمیشن کے پاس حتمی نتائج تک پہنچنے کے لیے 30 دن کا وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر کمیشن کی رپورٹس منظر عام پر نہیں آتیں، تاہم ماضی میں میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس کے لیے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آئی تھی۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ اس کمیشن کے قیام کا مقصد صرف میر رضا کیس نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے دیگر واقعات کی روک تھام اور اداروں پر عوام کے اعتماد کو بہتر بنانا بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک یا دو افراد کے برے ہونے سے تمام ادارے خراب نہیں ہوسکتے، ہم اپنے اداروں کی عزت کرتے ہیں، تاہم یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان اداروں پر عوام کا اعتماد کتنا ہے۔

کمیشن سربراہ نے کہا کہ وہ کمیشن کی مدت کے دوران کسی سے ملاقات نہیں کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وزیراعلیٰ سندھ بھی ان سے ملاقات کے لیے آئیں تو وہ ان سے بھی نہیں ملیں گے۔

جسٹس عمر سیال نے اعلان کیا کہ کیس سے متعلق معلومات رکھنے والے افراد سے رابطے کے لیے ایک سرکاری ای میل اور واٹس ایپ نمبر جاری کیا جائے گا۔ جو شخص اس معاملے سے متعلق اہم اور قابلِ استعمال معلومات فراہم کرے گا اسے ایک لاکھ روپے انعام بھی دیا جائے گا۔

انہوں نے ہدایت کی کہ جس مقام سے میر رضا کی لاش ملی تھی وہاں بھی کمیشن کے نوٹس چسپاں کیے جائیں تاکہ معلومات رکھنے والے افراد کمیشن سے رابطہ کرسکیں۔

سندھ حکومت کو ہدایت کی گئی کہ وہ ان تمام پولیس افسران اور ڈاکٹروں کی فہرست کمیشن کو فراہم کرے جو میر رضا کیس سے منسلک رہے ہیں، جبکہ کیس میں ملنے والے تمام شواہد اور ان سے متعلق معلومات بھی کمیشن کے سامنے پیش کی جائیں۔

وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ اس وقت انہیں صرف اہل خانہ کے بیانات کی نقول فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس معاملے میں کمیشن کی معاونت کررہے ہیں، ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔

جبران ناصر نے کہا کہ کمیشن بنانے کا مقصد شفافیت کو اجاگر کرنا ہے اور اداروں کو بے عزت کرنا کسی کی نیت نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پولیس افسران کو اپنا کام کرنے نہیں دیا جارہا۔

انہوں نے کمیشن سے درخواست کی کہ سماعت منگل تک ملتوی کی جائے، جس پر جسٹس عمر سیال نے اجلاس منگل کو صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا۔

کمیشن نے کیس سے متعلق مزید معلومات اور شواہد جمع کرنے کا عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!