ٹیچر اور اسکے پارٹنر کے ہاتھوں لے پالک بچہ جنسی زیادتی کے بعد قتل

ٹیچر اور اسکے پارٹنر کے ہاتھوں لے پالک بچہ جنسی زیادتی کے بعد قتل

ننھے بچے پریسٹن کی زندگی پیدائش سے ہی نہایت اذیت ناک تھی
ٹیچر اور اسکے پارٹنر کے ہاتھوں لے پالک بچہ جنسی زیادتی کے بعد قتل

Webdesk

|

16 Jun 2026

لندن: برطانیہ کے شہر بلیک پول میں ہائی اسکول ٹیچر جیمی وارلی اور اس کے پارٹنر کو گود لیے ہوئے 13 ماہ کے معصوم بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مجرم قرار دے دیا گیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ننھے بچے پریسٹن کی زندگی پیدائش سے ہی نہایت اذیت ناک تھی۔ اسے اولڈہم کونسل کے ہنگامی نگہداشت کے حکم کے تحت اس کی والدہ 42 سالہ سارہ ڈیوی سے لے لیا گیا تھا۔

بچے کی والدہ سارہ ڈیوی جب 13 سال کی تھیں تو 1998 میں ایک نحیف اور معمر شخص کے انتہائی سفاک اور ناقابلِ بیان قتل کے جرم میں اسے جیل بھیج دیا گیا تھا اور اس کے بعد سے وہ بار بار جیل جاتی اور باہر آتی رہی ہے۔

جنسی تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہونے والا بچہ پریسٹن 16 جون 2022 کو پیدا ہوا تھا اور ابتدائی 9 ماہ تک وہ رضاعی خاندان (Foster Care) کے پاس ایک صحت مند اور خوش حال بچہ تھا۔

مارچ 2023 میں اڈاپشن پینل نے جیمی وارلی اور اس کے پارٹنر جان میک گان کے حق میں منظوری دی جس کے بعد اپریل 2023 میں 9 ماہ کی عمر میں پریسٹن کو ان دونوں کے ساتھ بلیک پول منتقل کیا گیا۔

37 سالہ اسکول ٹیچر جیمی وارلی نے بچے کی دیکھ بھال اور گود لینے کے عمل کے لیے اسکول سے ایک سال کی چھٹی بھی لے رکھی تھی۔

تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے دوران معلوم ہوا کہ گود لیے جانے کے محض چار ماہ کے اندر معصوم بچے پر بدترین ظلم ڈھایا گیا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہولناک انکشافات ہوئے ہیں۔

بچے کے جسم پر تشدد کے 40 شدید زخم اور نشانات پائے گئے۔ بازو فریکچر تھا۔ چہرے اور جسم پر شدید نیل کے نشانات تھے۔

اس سے بھی بڑھ کر جیمی وارلی کے موبائل فون سے بچے کی انتہائی قابلِ اعتراض اور نازیبا ویڈیوز اور تصاویر ملیں۔ وہ معصوم بچے کو جنسی گھنانے فعل کا نشانہ بناتا رہا۔

موت سے قبل بچے کو تین بار مشکوک حالت میں اسپتال لایا گیا تھا لیکن ملزمان نے ہر بار جھوٹے بہانے بنا کر طبی عملے کو گمراہ کیا۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!