فٹ پاتھ پر سونے سے کراچی کے مشہور کچوری فروش بننے کا سفر، محمد جمیل کی سچی کہانی
ویب ڈیسک
|
23 Feb 2026
فٹ پاتھ پر سونے سے کراچی کے مشہور کچوری فروش بننے کا سفر محمد جمیل نامی شخص نے سخت جدوجہد، ثابت قدمی اور کامیابی کے ساتھ طے کیا۔
محمد جمیل کی زندگی جدوجہد اور محنت کی ایک ایسی مثال ہے، جس میں مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری گئی۔ وہ آج طارق روڈ پر ایک چھوٹی سی کچوری کی دکان چلا کر اپنے خاندان کا گزارا کر رہے ہیں۔
محمد جمیل کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ وہ ایک بڑے خاندان میں پیدا ہوئے جہاں مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنا ممکن نہ تھا۔ بہتر روزگار کی تلاش میں وہ کم عمری میں ہی کراچی آ گئے۔ ابتدا میں انہوں نے ناظم آباد میں ایک مٹھائی کی دکان پر کام کیا، جہاں انہیں روزانہ صرف 30 روپے اجرت ملتی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ مختلف بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں پر کام کرتے ہوئے انہوں نے یہ ہنر سیکھا۔ ان کے مطابق زندگی میں کچھ بہتری اس وقت آئی جب ان کی پہلی بیٹی پیدا ہوئی اور پھر انہوں نے محنت جاری رکھی۔ وہ چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کے والد ہیں اور اپنے بچوں کی پرورش اپنی محنت سے کی۔
محمد جمیل کی زندگی میں ایک مشکل وقت بھی آیا جب 2007 میں ان کی اہلیہ انتقال کر گئیں۔ اس کے بعد کئی سال تک انہیں شدید مشکلات کا سامنا رہا، جبکہ کورونا کے دنوں میں حالات مزید خراب ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ کاروبار شروع کرنے کے لیے انہیں اپنی اہلیہ کے زیورات بھی فروخت کرنا پڑے۔
آج ان کا بیٹا بھی ان کا ہاتھ بٹاتا ہے اور کام میں مدد کرتا ہے۔ محمد جمیل کا کہنا ہے کہ کسی بھی کاروبار میں کامیابی کے لیے گاہک سے اچھا برتاؤ اور معیاری چیز فراہم کرنا بہت ضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے گاہک بار بار ان کے پاس آتے ہیں۔
Comments
0 comment