کانپتے ہاتھ مگر حوصلہ چٹان جیسا، ملیے جہانگیر روڈ کے مشہور بالے بھائی سے

کانپتے ہاتھ مگر حوصلہ چٹان جیسا، ملیے جہانگیر روڈ کے مشہور بالے بھائی سے

بالے بھائی عمرے پر جانے کی خواہش رکھتے ہیں اور دو سال پہلے ہر چیز ہونے کے باوجود وہ طبیعت خراب ہونے کیوجہ سے جانہیں سکتے تھے

ویب ڈیسک

|

23 Feb 2026

کراچی کے علاقے جہانگیر روڈ پر چھولے اور چاٹ فروخت کرنے والے 79 سالہ بالے بھائی سے آج آپ کی ملاقات کرواتے ہیں۔

ڈائیلاگ پاکستان کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بالے بھائی نے بتایا کہ 1947 میں بھارت سے لاہور آئے پھر ہم ریڈ کراس آئے اور کراچی کے علاقے جہانگیر روڈ میں آباد ہوئے،

انہوں نے کہا کہ جب سے ہم یہیں آباد ہیں، ہمارے بچوں، اُن کے بچوں سب کی شادیاں ہوگئیں مگر ہم یہیں ہیں، جہانگیر روڈ کے اسکول سے 1968 میں میٹرک کیا، اسکول پڑھنے جاتا اور چھولے بیچتا تھا، پانچ روپے کے چھولے فروخت ہوتے تھے۔

بالے بھائی کے مطابق میٹرک کے بعد ملازمت کی تو 8 روپے روز اور 240 روپے ماہانہ ملتے تھے، اسی طرح شادی کی اور پھر اللہ نے تین بچوں سے نوازا جن کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور تین آج گریجویٹ ہیں۔

بالے بھائی نے بتایا کہ بچیاں کہتی ہیں چھوڑ دو کیونکہ اس سے شادیوں اور سسرال پر اثر پڑھتا ہے مگر میں انہیں کہتا ہوں کہ یہ میرا شوق تھا اور اسے اللہ نے کاروبار کروادیا۔

بالے بھائی نے بتایا کہ چھولے بنانے سے فروخت کرنے اور اسٹال بند کرنے تک کا عمل بہت مشقت والا ہے، ساری خریداری کرنی اور پھر انہیں بنانا پڑتا ہے، اس دورانیے میں بیوی بہت ساتھ دیتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 79 سال عمر ہوگئی جس کی وجہ سے اب ہاتھ کاپنتے ہیں مگر کیا کریں محنت نہیں کریں گے تو پیسے کہاں سے آئیں گے۔

بالے بھائی نے بتایا کہ انہیں عمرے پر جانے کی شدید خواہش ہے، دو سال پہلے سارے معاملات ہوگئے تھے اور ٹکٹ کا انتظار تھا مگر اچانک طبیعت خراب ہوگئی۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!