امریکا، ایران معاہدے سے اسرائیل پریشان، خطے میں نئی جنگ کا خطرہ

امریکا، ایران معاہدے سے اسرائیل پریشان، خطے میں نئی جنگ کا خطرہ

اسرائیلی میڈیا نے امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے پر اسرائیل کی تشویش کا ذکر کیا ہے
امریکا، ایران معاہدے سے اسرائیل پریشان، خطے میں نئی جنگ کا خطرہ

Webdesk

|

31 May 2026

واشنگٹن: امریکی ساختہ نئے فضائی ایندھن بردار طیاروں کی اسرائیلی فضائیہ کو فراہمی کے ساتھ ہی اسرائیل کی ہوم فرنٹ کمانڈ نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ تیسری جنگ کی تیاریوں کا عمل جاری ہے۔ان تیاریوں کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی نئے تصادم کی صورت میں اسرائیلی معاشرہ انتہائی تیزی سے ردعمل دینے کے لیے تیار ہو۔

اسرائیلی میڈیا نے امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے پر اسرائیل کی تشویش کا ذکر کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حالیہ جنگ اسرائیل کے اعلان کردہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

28 مئی 2026 کو اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے اعلی افسران نے بتایا کہ انہیں سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے ہدایات موصول ہوئی ہیں کہ ایران کے ساتھ ممکنہ تیسری جنگ کی صورت میں اندرونی محاذ کی تیاری کو ہر ممکن حد تک مضبوط بنایا جائے۔

ان افسران کا کہنا تھا کہ ان ہدایات کا مقصد معاشرے کو اس انداز میں تیار کرنا ہے کہ ہوم فرنٹ سسٹم انتہائی مختصر وقت میں مکمل فعال ہو جائے، یعنی ہنگامی صورتحال میں فوری اور بھرپور ردعمل دیا جا سکے۔

اسرائیلی فوج کے اعلی افسران کے مطابق آئندہ کسی بھی ممکنہ جنگ کی منصوبہ بندی کو انتہائی خفیہ رکھا جانا چاہیے اور اس حوالے سے اسرائیلی معاشرے کے اندر معلومات کے افشا سے گریز کیا جائے، تاکہ مخالف فریق کے مقابلے میں اچانک کارروائی کا عنصر برقرار رکھا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق اس حکمت عملی کا مطلب یہ ہے کہ ہوم فرنٹ کمانڈ آبادی کو پہلے سے وارننگ جاری نہیں کر سکے گی، لہذا ابھی سے ایسے انتظامات کیے جا رہے ہیں کہ معمول کی زندگی سے مکمل جنگی حالت میں انتہائی کم وقت میں منتقل ہوا جا سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماضی کی جنگوں کے دوران بلدیاتی اداروں اور اسپتالوں سمیت مختلف اداروں کو ایرانی میزائل حملوں کے خدشے کے پیش نظر پیشگی انتباہات دیے جاتے تھے تاکہ وہ ضروری تیاری کر سکیں۔

اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق 40 روز تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران ایران نے تقریبا 550 میزائل داغے، جن میں سے 72 فیصد کلسٹر وار ہیڈز سے لیس تھے۔

ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے اندر تقریبا 1200 مقامات متاثر ہوئے، جبکہ 25 علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ریکارڈ کی گئی۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!