ترک افواج کی شام میں تعیناتی روکنے کے لیے اسرائیلی حملوں سے قبل موساد چیف نے کس سے رابطہ کیا

ترک افواج کی شام میں تعیناتی روکنے کے لیے اسرائیلی حملوں سے قبل موساد چیف نے کس سے رابطہ کیا

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں دعوی کیا کہ دمشق حکومت ترکیہ کے فوجیوں کو اس ایئر بیس پر تعینات کرنے کی اجازت دینے کے بالکل قریب تھی
ترک افواج کی شام میں تعیناتی روکنے کے لیے اسرائیلی حملوں سے قبل موساد چیف نے کس سے رابطہ کیا

Webdesk

|

20 Aug 2026

اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ رومن گوفمین اور شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی کے درمیان گزشتہ ہفتے ٹیلی فون پر اہم گفتگو ہوئی .جس میں شام میں ترکیہ کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے دعوی کیا کہ 14 اگست کو ہونے والا یہ رابطہ شامی صدر احمد الشرع کی زیرِ قیادت قائم ہونے والی نئی حکومت اور اسرائیل کے درمیان اعلی ترین سطح کا رابطہ تھا. جس کے کچھ ہی دنوں بعد اسرائیل نے شام کے ابو الظہور ایئر بیس پر بمباری کی تھی۔

شام کے ایئر بیس پر حملے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمین نیتن یاہو نے اپنے بیان میں دعوی کیا کہ دمشق حکومت ترکیہ کے فوجیوں کو اس ایئر بیس پر تعینات کرنے کی اجازت دینے کے بالکل قریب تھی اور شام نے اسرائیل کی ان بار بار کی تنبیہات کو بھی نظر انداز کیا کہ ترکیہ کی یہ پیش قدمی اسرائیل کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق موساد کے سربراہ کی شامی وزیرِ خارجہ کے ساتھ بات چیت میں ترکیہ کی عسکری امداد کا موضوع زیرِ بحث رہا۔رائٹرز کے مطابق  ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ اس رابطے کے دوران موساد چیف نے شام کو ترکیہ کی جانب سے ڈرونز، اسلحے کی فراہمی اور دیگر عسکری سامان کی خریدو فروخت سے متعلق سخت سوالات کیے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں واضح موقف اپنایا کہ اسرائیل شام میں ترکیہ کی کسی بھی ایسی عسکری موجودگی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا جو اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ہم نے ترکیہ کو واضح طور پر منع کیا تھا کہ ایسا نہ کرے، لگتا ہے کہ انہوں نے ہمارا پیغام نہیں سنا تھا، اسی لیے ہم نے یقینی بنایا کہ وہ اس بات کو مزید بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!