ٹرمپ نے ایران کو گھیرنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنا لی

ٹرمپ نے ایران کو گھیرنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنا لی

صدر ٹرمپ نے اب ایک نیا طریق کار اختیار کر لیا ہے
ٹرمپ نے ایران کو گھیرنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنا لی

Webdesk

|

19 Aug 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے، اور حکمتِ عملی ہتھوڑا چلانے سے آہستہ آہستہ گلا گھونٹنے کی طرف منتقل کر دی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق کئی ہفتوں سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے حوالے سے مثبت پیش رفت اپنی خواہش اور دبا کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر انھیں اس میں زیادہ کامیابی نہیں ملی۔

صدر ٹرمپ نے اب ایک نیا طریق کار اختیار کر لیا ہے، ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نے انتظامیہ کے اعلی سفارتی نمائندوں کو ایران کے ساتھ اپنی بات چیت روکنے کی ہدایت کی ہے۔

وائٹ ہاس اب فوری طور پر ایران کو زور سے کچلنے کی بہ جائے وقت کے ساتھ اس پر دبا بڑھا کر اسے گھیرنے کی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے، واضح رہے کہ صدر ٹرمپ یہ دعوی کرتے رہے ہیں کہ مذاکرات اچھی طرح آگے بڑھ رہے ہیں اور نیا معاہدہ بس ہونے ہی والا ہے، لیکن اب انھوں نے اچانک کہا کہ ایران کے ساتھ کوئی سفارت کاری نہیں ہو رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پہلی یہ حکمت عملی تھی کہ ایران پر جلد از جلد ہتھوڑا چلا دیا جائے، لیکن اب یہ حکمت عملی ہے کہ اس کا دھیرے دھیرے گلا گھونٹا جائے۔

انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ نہ کوئی مذاکرات یا بات چیت ہو رہی ہے اور نہ ہی طے شدہ ہے۔ بحری ناکہ بندی پوری طرح نافذ اور مثر ہے۔ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور اس میں آمدورفت جاری ہے۔ پانی میں بچھائی گئی تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انھیں دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک اب بھی نہایت محدود ہے، اور اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر ایرانی پروجیکٹائلز سے حملے بدستور ہو رہے ہیں۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!