3 hours ago
یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں گرمی سے 18 ہلاک
Webdesk
|
23 Jun 2026
پیرس: فرانس میں گرمی کی شدید لہر اور اس سے جڑے مسائل کے باعث کم سے کم 18 افراد ہلاک ہوگئے۔ جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق چند روز سے یورپی ممالک سخت گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور پیر کو درجہ حرارت بلند ترین سطح تک پہنچا۔
فرانس میں سکولوں کو بند کیا گیا ہے یا پھر ان کے اوقات تبدیل کیے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں ماہ کے دوران گرمی مزید بھی بڑھ سکتی ہے۔
بورڈآکس شہر میں درجہ حرارت 41 اعشاریہ نو ڈگری تک گیا جس پر پچھلے برس کے اگست کے مہینے کا ریکاڈ ٹوٹ گیا جبکہ وسطی فرانس کے شہر پوئیٹریز میں 41 اعشاریہ دو سیلسیس تک پہنچا جو 1947 کے بعد اس علاقے میں پڑنے والی اب تک کی سب سے زیادہ گرمی تھی۔
سپین کے نسبتا ٹھنڈے سمجھے جانے شہر سین سباسچیئن میں درجہ حرات 40 ڈگری تک پہنچ گیا اوریہ اس شہر میں روایتی طور پر پائے جانے والے موسم سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ اپنے روایتی موسم سے کافی دور ہوتا جا رہا ہے۔
ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے اپریل میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ یورپ عالمی سطح پر بڑھنے والی گرمی کے مقابلے میں تقریبا دو گنا اضافے کے ساتھ گرم ہو رہا ہے۔
فرانس کے جنوب مشرقی شہر کارپینٹراس میں دو بچے اس وقت جان سے گزرے جب وہ ایک ایسی گاڑی کے اندر موجود تھے جو دھوپ میں کھڑی تھی، واقعہ کے بارے میں زیادہ تفصیلات معلوم نہیں ہو سکی ہیں تاہم جب ان کی والدہ گاڑی کے پاس پہنچی تو دو اور چار سالہ بچے بے ہوش تھے۔
ان کے شور مچانے پر لوگ اکٹھے اور امدادی کارکن بھی پہنچے جنہوں نے بچوں کو ہوش میں لانے کی کوششیں کیں تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
اسی طرح بورڈآکس کے سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ایسے تین افراد گرمی کی وجہ سے انتقال کر گئے جن کی عمریں 80 اور 95 برس کے درمیان تھیں۔
سخت گرمی کی وجہ سے لوگ ٹھنڈے اور تیراکی کے مقامات کا رخ کر رہے ہیں ، گرمی سے بچنے کے لیے 13 افراد مختلف مقامات پر نہاتے ہوئے ڈوب گئے۔
Comments
0 comment