10 hours ago
کراچی میں عید کیلیے گھر میں پلنے والا فیملی کا پانچواں رکن لاڈلا، ’یہ ہمیں جنت میں لے جائے گا‘
ویب ڈیسک
|
19 May 2026
کراچی کے ایک شہری نے عیدالاضحیٰ سے قبل اپنے قربانی کے جانور “لاڈلا” سے جڑی جذباتی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو سال تک گھر میں پالا جانے والا یہ بچھڑا اب ان کے خاندان کا حصہ بن چکا ہے اور اس کی قربانی کا تصور بھی ان کے لیے انتہائی مشکل ہے۔
شہری کے مطابق ان کے گھر میں 4 افراد تھے لیکن “لاڈلا” کی آمد کے بعد وہ گویا خاندان کا پانچواں فرد بن گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ، بھابھی، بڑے بھائی اور وہ خود سب ہی اس جانور سے بے حد محبت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بچھڑے کا نام “لاڈلا” اس لیے رکھا گیا کیونکہ وہ سب کا بے حد پسندیدہ تھا۔ ان کے بقول اگرچہ وہ اسے لفظی طور پر چہیتا نہیں نہیں کہہ سکتے تھے، اس لیے “لاڈلا” ہی اس کے لیے سب سے موزوں نام بن گیا۔
مالک نے بتایا کہ انہیں بچپن سے جانور پالنے کا شوق تھا اور وہ اکثر عید سے ایک یا دو ماہ قبل قربانی کے جانور خرید لیا کرتے تھے، تاہم یہ پہلا موقع تھا جب کسی جانور کو دو سال تک گھر میں رکھا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں خاندان کو بچھڑے کی دیکھ بھال کا زیادہ تجربہ نہیں تھا۔ جب اسے گھر لایا گیا تو وہ خوفزدہ رہتا تھا، اس لیے گھر والے اس کے پاس بیٹھتے، اسے دلاسہ دیتے اور اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتے تھے۔ ان کے مطابق اگر کچھ دیر کوئی اس کے قریب نہ ہوتا تو وہ آوازیں نکال کر انہیں بلاتا تھا۔
شہری نے کہا کہ “لاڈلا” کی آمد کے بعد ان کے گھر میں برکت محسوس ہونے لگی۔ شروع میں اخراجات کے بارے میں تشویش تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ گھر کے حالات بہتر ہوتے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ بچھڑا صفائی اور خوراک کے معاملے میں بھی بہت حساس تھا۔ وہ دوسرے جانوروں کے استعمال کیا ہوا پانی نہیں پیتا تھا اور اس کے لیے ہر بار تازہ پانی رکھا جاتا تھا۔ اگر برتن میں ذرا سی بو بھی محسوس ہوتی تو وہ کھانا چھوڑ دیتا تھا۔
مالک کے مطابق انہوں نے کبھی جانور کو تکلیف دینے کی کوشش نہیں کی۔ اس کی ناک میں نکیل نہیں ڈالی گئی اور نہ ہی اس کے سینگ تبدیل کیے گئے، حالانکہ کئی لوگوں نے مشورہ دیا تھا۔
قربانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ جذباتی ہوگئے اور کہا کہ دوسرے لوگوں کی اپنے قربانی کے جانوروں سے وابستگی اب شروع ہوتی ہے لیکن ان کے لیے ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے کوئی اپنا بچھڑنے والا ہو۔
انہوں نے بتایا کہ کئی افراد نے “لاڈلا” کو خریدنے کی پیشکش کی لیکن خاندان نے ہر بار انکار کردیا۔ ان کے بقول اگر دو سال محبت سے پالے گئے جانور کی قربانی کوئی اور کرے تو اس کا مقصد ختم ہوجاتا ہے۔
شہری نے مزید بتایا کہ “لاڈلا” کی قربانی کے لیے ایک الگ چھری بھی تیار کروائی گئی ہے جو کسی دوسرے جانور کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ یقیناً تکلیف دہ ہوگا لیکن اللہ کی رضا کے لیے دی جانے والی قربانی ہی اصل مقصد ہے۔
Comments
0 comment