عالم دین کے خلاف بندوق اٹھانا جہاد نہیں، دہشت گردی ہے، فضل الرحمان

ویب ڈیسک
|
10 Mar 2025
پشاور: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دارالعلوم حقانیہ میں خطاب کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق اور ان کے بیٹے مولانا حامد الحق کی شہادت پر گہرے غم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ دارالعلوم حقانیہ کے در و دیوار غم زدہ ہیں اور مولانا حامد الحق کی شہادت کا صدمہ ناقابل برداشت ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب انہیں مولانا حامد الحق کی شہادت کی خبر ملی تو ان کی تصویر ان کے سامنے آ گئی۔ انہوں نے کہا، "ہمارا عقیدہ ہے کہ موت کا وقت، جگہ اور سبب اللہ نے مقرر کر رکھا ہے، لیکن جدائی کا غم قابل برداشت نہیں ہوتا۔ سوائے صبر کے اور کوئی چارہ نہیں۔"
انہوں نے کہا کہ انہیں یوں محسوس ہوا جیسے یہ حملہ حامد الحق پر نہیں، بلکہ ان کے گھر اور مدرسے پر ہوا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا، "یہ حملہ میرے مادر علمی پر ہوا ہے۔ مجھے پہلے سے کچھ معلومات تھیں کہ دارالعلوم حقانیہ پر آپریشن ہونے والا ہے۔ میں نے ریاستی ذمہ داروں سے ملاقات کی اور انہیں آپریشن کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کیا۔ میں نے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو یہ بہت مہنگا پڑے گا۔"
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ جے یو آئی اسلحے کی سیاست نہیں کرتی، لیکن اگر دارالعلوم حقانیہ کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا حامد الحق ایک بے ضرر انسان تھے اور ایک مسلمان کی زندگی سے کھیلنا جہاد نہیں، بلکہ دہشت گردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ایک بندوق مسلمان عالم دین کے خلاف کیسے استعمال ہو سکتی ہے؟ اسلام میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ یہ لوگ جہاد کا نام لے کر جنت کا راستہ دیکھ رہے ہیں، لیکن ایک عالم دین کے خلاف بندوق اٹھانا تنگ نظری ہے، جہاد نہیں۔"
مولانا فضل الرحمان نے مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ مسجد میں اللہ کو یاد کرنے والوں کو فرشتے گھیر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "یہ لوگ مساجد کو نشانہ بنا رہے ہیں، لیکن مسجد میں بیٹھنے والوں کے لیے اللہ نے نقد انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔"
انہوں نے بلوچستان میں نماز کے دوران عالم دین مولانا حسن جان کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "اپنے استاد کے قاتل کو مجاہد کیسے کہوں؟ یہ کالی آندھیاں گزر جائیں گی، لیکن یہ مدارس اور عالم دین باقی رہیں گے۔ وفاق المدارس اور دیگر دینی مدارس اپنا کام جاری رکھیں گے۔ علماء کرام کو شہید کیا گیا، لیکن دینی تعلیم پر کوئی فرق نہیں پڑا۔"
مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا، "تم مجاہد نہیں، قاتل اور مجرم ہو۔ عالم دین کے خلاف بندوق اٹھانا جہاد نہیں، دہشت گردی ہے۔"
ان کا یہ خطاب دارالعلوم حقانیہ کے طلباء، اساتذہ اور دیگر حاضرین کے لیے جذباتی اور حوصلہ افزا تھا، جس میں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف واضع موقف اختیار کیا اور دینی تعلیم کے فروغ پر زور دیا۔
Comments
0 comment