آفاق احمد کو رہا کیا جائے، ڈمپر جلیں گے، مجھے بھی گرفتار کرلیں، فاروق ستار

آفاق احمد کو رہا کیا جائے، ڈمپر جلیں گے، مجھے بھی گرفتار کرلیں، فاروق ستار

آفاق احمد کی گرفتاری سے شہر میں تناؤ بڑھ سکتا ہے، ایم کیو ایم پاکستان رہنما
آفاق احمد کو رہا کیا جائے، ڈمپر جلیں گے، مجھے بھی گرفتار کرلیں، فاروق ستار

ویب ڈیسک

|

16 Feb 2025

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے پارٹی کے رہنما آفاق احمد کی گرفتاری کو عجلت میں کیا گیا اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آفاق احمد کی گرفتاری سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ شہر میں تناؤ بڑھ سکتا ہے۔  

فاروق ستار نے کہا کہ کراچی میں ڈمپر جلانے کے واقعات کے پیچھے نہ تو آفاق احمد ہیں اور نہ ہی ایم کیو ایم، بلکہ یہ عوام کے غم و غصے کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم عوام کی کیفیت بیان کر رہے ہیں۔ اگر میرے بیان پر گرفتار کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں، لیکن ڈمپر جلانے کا سلسلہ اس طرح ختم نہیں ہوگا۔ شہر میں لسانی فسادات کے لیے ایک بار پھر اسٹیج سجایا جا رہا ہے۔"  

انہوں نے کراچی کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں حالات کسی بھی وقت ایٹم بم کی طرح پھٹ سکتے ہیں۔ فاروق ستار نے کہا کہ 100 افراد کی ہلاکت کے باوجود وزیر اعلیٰ سندھ یا کسی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ہمدردی کا ایک بیان تک نہیں آیا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر شہر کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرے، ورنہ 1985 سے بھی بدتر حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔  

فاروق ستار نے رینجرز کے کردار پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ رینجرز کو ٹریفک پولیس کے ساتھ سڑکوں پر کھڑا کرنے کے بجائے انہیں جرائم کی روک تھام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "رینجرز کی تنخواہیں سندھ کے خزانے سے ادا کی جا رہی ہیں، لیکن انہیں شہر میں امن و امان قائم کرنے کے لیے موثر طریقے سے استعمال نہیں کیا جا رہا۔"  

ایم کیو ایم رہنما نے ڈمپر مافیا اور سیاسی عناصر پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈمپر مافیا قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر شہر میں ریاست چلا رہی ہے، جبکہ جرائم پیشہ عناصر اپنے مفادات کو فروغ دے رہے ہیں۔ فاروق ستار نے کہا، "ڈمپر مافیا کے سرغنہ کو بھی گرفتار کیا جانا چاہیے، لیکن اگر اس پر کوئی ردعمل نہیں ہوا تو شہر کی سیاسی ڈائنامکس تبدیل ہو جائیں گی۔"  

انہوں نے مزید کہا کہ ڈمپر مافیا کے سرغنہ کا تعلق کرکٹ کھلاڑی سیاستدان کے ساتھ رہا ہے، اور یہ عناصر سیاسی جماعتوں میں اپنی جگہ بنا کر اپنے مفادات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ فاروق ستار نے کہا کہ اگر مافیا کے کارندوں کی سرکوبی نہیں کی گئی تو یہ عناصر شہر کو اپنے کنٹرول میں لے لیں گے اور سیاستدان بیک سیٹ پر بیٹھے رہیں گے۔  

فاروق ستار نے پیپلز پارٹی کی 16 سالہ حکمرانی پر بھی شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بدعنوانی، کرپشن اور بدترین طرز حکمرانی کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے کہا، "صوبے بالخصوص کراچی میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ آئین، قانون یا حکومت کی عملداری کہیں بھی نظر نہیں آتی۔"  

انہوں نے کراچی میں شاہانہ طرز کے میرج ہال بنانے اور ٹی وی چینلز خریدنے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ سارا پیسہ رشوت اور بدعنوانی سے حاصل کیا گیا ہے۔  

فاروق ستار نے کہا کہ اگر کراچی کے مسائل پر فوری توجہ نہ دی گئی تو شہر میں 1985 سے بھی بدتر حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم کراچی کو 85 جیسی آگ میں دھکیلنا نہیں چاہتے، لیکن اگر ہمیں دیوار سے لگایا گیا تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔"  

انہوں نے کراچی کے شہریوں کی بے بسی، بے حسی، احساس محرومی اور عدم تحفظ کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو کراچی بیروت بن سکتا ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ ظلم و ناانصافی کا سلسلہ اتنا طویل ہے کہ اس پر پریس کانفرنسوں کے ذریعے بات کرنا بھی کم ہے۔  

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ کراچی کے مسائل کو فوری طور پر حل کرے اور شہر میں امن و امان قائم کرنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!