مصطفی عامر قتل کیس میں بڑی پیشرفت

Webdesk
|
17 Feb 2025
شہر قائد کے علاقے ڈیفنس سے اغوا کے بعد بہیمانہ طریقے سے قتل ہونے والے مصطفیٰ عامر کے کیس میں غفلت برتنے پر ایس ایچ او سمیت تین پولیس افسران کو معطل کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں مصطفیٰ عامر نامی نوجوان کےاغوا اور قتل کیس میں سنگین غفلت اور سستی برتنے پر ڈی آئی جی ساوتھ نے ایس ایچ او درخشاں آغا رشید، ایس آئی او ذوالفقار اور تفتیشی افسر اے ایس آئی افتخار کو معطل کر دیا۔
تینوں افسران پرالزام کے انہوں نے 7 جنوری کو مقدمے کے اندراج کےبعد کسی میں سنجیدگی کامظاہرہ نہیں کیا تھا۔
کیس کی نئی پیشرفت
مصطفیٰ عامر قتل کے حوالے سے پولیس ابھی تک یہ بات نہیں جان سکی کہ مقتول کو کیسے اور کب قتل کیا گیا تاہم ایک بات سامنے آئی ہے کہ ملزم ارمغان قتل کے بعد اپنے ساتھی کے ہمراہ پاکستان کے سیاحتی علاقے کی سیر کیلیے چلے گئے تھے۔
اُدھر مقتول کی والدہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس افسر علی حسن اس کیس میں ملوث ہیں اور اُن کے خلاف وہ پرچہ درج کروائیں گی۔
کیس کی تحقیقات میں انکشافات
مصطفیٰ قتل کیس میں مزید انکشافات سامنے آئے ہیں، اینٹی وائلنٹ کرائم سیل پولیس کے مطابق مصطفیٰ کو گاڑی سمیت جلانے کے واقعہ کے اگلے روز ارمغان بذریعہ جہاز اسلام آباد اور وہاں سے اسکردو چلا گیا۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزم شیراز بھی کراچی سے پہلے لاہور پہنچا اور وہاں سے اسلام آباد اور پھر اسکردو پہنچا۔پولیس کے مطابق یہ دونوں اسکردو میں رہ کر کراچی کی خبریں لیتے رہے کہ آیا ان پر کوئی شک تو نہیں کیا جا رہا۔28جنوری کو شیراز کراچی پہنچا اور ارمغان کو واپس آنے کے لیے کہا جس کے بعد 5 فروری کو ارمغان بھی واپس کراچی پہنچ گیا۔
Comments
0 comment