انمول پنکی کو عدالت میں پروٹوکول دینے پر اعلیٰ افسران بھی زد میں آ گئے

انمول پنکی کو عدالت میں پروٹوکول دینے پر اعلیٰ افسران بھی زد میں آ گئے

انکوائری رپورٹ کی روشنی میں 2 پولیس افسران کو ممکنہ طور پر قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے
انمول پنکی کو عدالت میں پروٹوکول دینے پر اعلیٰ افسران بھی زد میں آ گئے

Webdesk

|

19 May 2026

کراچی: کوکین گینگ کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی عدالت میں پہلی پیشی کے دوران غیر معمولی پروٹوکول دیئے جانے کے معاملے پر کراچی پولیس چیف آزاد خان کی جانب سے نامزد کیے جانے والے انکوائری افسر ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے اپنی رپورٹ مکمل کر کے اعلی حکام کو ارسال کردی۔

اس حوالے سے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں پولیس اہلکاروں اور افسران کی جانب سے سنگین غفلت اور لاپرواہی کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ بعض افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور کراچی پولیس چیف آزاد خان کو بھجوا دی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انمول عرف پنکی کو عدالت میں پیشی کے دوران سیکیورٹی کے عملی اقدامات میں کئی خامیاں سامنے آئیں جبکہ ملزمہ کو غیر معمولی سہولتیں بھی فراہم کی گئیں۔

 انکوائری کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ تفتیشی پولیس کی جانب سے ملزمہ کو عدالت میں موبائل فون تک فراہم کیا گیا جسے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری سے لیکر عدالت میں پیشی تک ساتھ زون کے ایک اعلی افسر اور گارڈن تھانے کے ایک افسر کے درمیان مسلسل رابطے قائم تھا جو اعلی افسر کو ہر لمحے کی صورتحال بذریعہ واٹس ایپ پہنچا رہا تھا۔

ذرائع نے کہا کہ ایس آئی او کی جانب سے بھی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل اور غفلت کا مظاہرہ سامنے آیا ہے ، ذرائع کے مطابق انکوائری افسر کی جانب سے ساتھ زون کے ایک اعلی افسر کی پیشہ ورانہ سنگین غفلت کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

جبکہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں 2 پولیس افسران کو ممکنہ طور پر قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے رپورٹ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!