1 hour ago
عمرہ ویزہ کی آڑ میں جسم فروشی کیلیے سعودی عرب جانے والی خاتون کے سنسنی خیز انکشافات
Webdesk
|
15 Jul 2026
کراچی : عمرہ ویزا پر سعودی عرب جانے والی خاتون کو آف لوڈ کیا گیا تو تحقیقات میں نا قابل یقین سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔
’سعودی عرب دو بار گئی اور دونوں بار تین تین ماہ قیام کیا، اس دوران ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے کے عوض غیراخلاقی کام کیے‘۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ انکشاف عمرہ ادائیگی کے نام پر غیراخلاقی کاموں کیلیے سعودی عرب جانے والی خاتون نے دوران تفتیش کیے۔
کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کے امیگریشن عملے نے مشکوک سفری معلومات کی بنیاد پر سعودی عرب جانے والی خاتون کو روکا اور انہیں چند لمحے پہلے آف لوڈ کردیا۔
ایف آئی اے کے مطابق خاتون مسافر کی شناخت انعم کے نام سے ہوئی جو پاکستانی پاسپورٹ پر عمرہ ویزا کے نام پر سعودی عرب روانہ ہورہی تھی۔
دوران امیگریشن کلیئرنس آف لوڈ خاتون کومشکوک سفری معلومات کی بنیاد پرمزید جانچ پڑتال اور انٹرویو کے لیے خاتون کو روکا گیا تو اُس نے دوران انٹرویو انکشاف کیا کہ سعودی عرب میں مقیم اپنے دوست الیاس سے ویزا انتظام کرنے کی درخواست کی تھی۔
خاتون مسافرنے اعتراف کیا کہ وہ اس سے قبل دو بار سعودی عرب جا چکی ہے، جہاں ہربار تقریباً تین ماہ قیام کیا اورغیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث رہی، اس کےمطابق سابقہ دونوں سفری انتظامات سعودی عرب میں مقیم ذیشان نے کیے جبکہ مانی نامی شخص نےاسے دمام میں ریسیوکرکے رہائش کا انتظام کیا۔
خاتون نے بتایا کہ اسے اس سرگرمی کےعوض ماہانہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے ادا کیے جاتے تھے اور ویزا و سفر کے اخراجات آمدن سے کاٹے جاتے تھے۔
آف لوڈ مسافرنے مزید انکشاف کیا کہ موجودہ سفرکے تمام انتظامات الیاس نے کیے ہیں اوروہ اس مرتبہ کسی ایجنٹ کے بجائے خود کام کرنےکا ارادہ رکھتی تھی۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق موبائل فون کی جانچ کے دوران متعدد وائس میسجزاور تصاویربرآمد ہوئیں،جن کے بارے میں خاتون مسافرنے سابقہ سرگرمیوں اورموجودہ سفر کے مقصد کیلیے استعمال کرنے کا اعتراف کیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق معاملہ انسانی اسمگلنگ اور تجارتی جنسی استحصال سےمتعلق معلوم ہوتا ہے۔ ایف آئی اے امیگریشن حکام نے آف لوڈ خاتون کو مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کردیا۔
Comments
0 comment