1 hour ago
گل پلازہ کی بھیانک آگ متاثرین کی شناخت ایک بڑا چیلنج بن گئی
Webdesk
|
27 Jan 2026
کراچی: شہر قائد میں واقع شاپنگ سینٹر گل پلازہ کی بھیانک آگ کے 11 دن بعد بھی متاثرین کی شناخت ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ طارق کے مطابق سول اسپتال کراچی میں ڈی این اے کے ذریعے لاشوں اور گمشدہ افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آگ کی شدت کے باعث لاشوں کے ڈی این اے نمونے کافی خراب ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے شناخت کا عمل مشکل ہو گیا ہے۔
ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ اب تک پولیس کو 70 سے زائد باقیات موصول ہو چکی ہیں جن میں سے چھ لاشیں خاندان کی مدد سے چہرے کی شناخت سے اور ایک لاش شناختی کارڈ کے ذریعے معلوم کی گئی۔
مزید نو کیسز کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ہوئی ہے، جبکہ 14 لاشوں کے ڈی این اے نمونے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور ان کی شناخت مشکل ہے۔
ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ فارنزک لیب دن رات کام کر رہی ہے اور امید ہے کہ مزید لاشوں کی شناخت ممکن ہو سکے گی۔
ٹاسک فورس کے سربراہ عامر حسن خان کے مطابق ڈی این اے کے لیے سب سے پہلے متاثرہ شخص کے والدین یا بچوں کے نمونے لیے جاتے ہیں، اگر وہ دستیاب نہ ہوں تو بھائی یا بہن کے نمونے لیے جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ڈی این اے پروفائلنگ میں کم از کم تین سے پانچ دن کا وقت لگتا ہے، مگر سندھ فارنزک ڈی این اے لیب تیز رفتاری سے کام کر رہی ہے اور جلد نتائج متوقع ہیں۔
ماہرین کے مطابق انسانی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے کا استعمال فارنزک سائنس میں سب سے اہم اور قابل اعتماد طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
انسانی جسم کے ہر خلیے میں ڈی این اے موجود ہوتا ہے اور موت کے بعد بھی اس کی کچھ مقدار محفوظ رہتی ہے۔ اتنی پائیداری کی وجہ سے ڈی این اے ہزاروں سال پرانی انسانی باقیات سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شدید حادثات یا آگ میں جل جانے والی لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے سب سے موثر ذریعہ ہوتا ہے۔
فارنزک ماہرین عموما انسانی باقیات کی شناخت کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں، جیسے فنگر پرنٹس، دانتوں کا تجزیہ یا دیگر جسمانی خصوصیات، لیکن شدید حرارت یا دیگر حالات میں یہ تمام شواہد تباہ ہو سکتے ہیں۔
Comments
0 comment