10 hours ago
میر رضا کیس: سندھ ہائیکورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست مسترد کردی
ویب ڈیسک
|
2 Sep 2026
کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا علی خان کی موت کے معاملے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی درخواست خارج کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو قانون کے مطابق غیر جانبدارانہ، شفاف اور مؤثر تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق میر رضا کے والدین اور بہن کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پولیس کی جاری تفتیش پر اہلخانہ کا اعتماد نہیں رہا، اس لیے عدالت اپنے آئینی اختیار کے تحت جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دے۔
تحریری حکمنامے کے مطابق درخواست گزاروں کے وکیل نے جاری تفتیش میں خامیوں اور تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے جے آئی ٹی بنانے کی استدعا کی، جبکہ اپنے مؤقف کے حق میں مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیا۔
دوسری جانب ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش ابھی جاری ہے اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 173 کے تحت حتمی رپورٹ بھی عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔
سرکاری وکلا کا مؤقف تھا کہ تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار قبل از وقت ہے اور محض الزامات کی بنیاد پر جاری تفتیش میں عدالتی مداخلت مناسب نہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ جاری فوجداری تفتیش میں براہ راست مداخلت کرنا یا اسے اپنے ہاتھ میں لینا عدالتی دائرہ اختیار کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔ تفتیشی افسر نے بھی عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے کوشش کررہا ہے اور ضرورت پڑنے پر قانون کے مطابق دیگر تحقیقاتی اداروں کی معاونت حاصل کی جاسکتی ہے۔
حکمنامے میں بتایا گیا کہ سندھ ٹربیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت ایک رکنی کمیشن بھی تشکیل دیا جاچکا ہے اور کمیشن نے کارروائی شروع کردی ہے۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے کمیشن کی تشکیل پر سنجیدہ اعتراض نہیں کیا بلکہ اس پر اعتماد کا اظہار کیا۔
سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا علی خان کے اہلخانہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ عدالت ان کے دکھ اور نقصان سے آگاہ ہے، تاہم ہمدردانہ جذبات قانون کے طے شدہ تقاضوں پر غالب نہیں آسکتے۔
عدالت نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست نمٹاتے ہوئے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ تحقیقات قانون کے مطابق غیر جانبداری، شفافیت اور تیزی سے جاری رکھی جائیں۔
Comments
0 comment