میر رضا قتل کیس: وعدہ ہے کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، جسٹس عمر سیال

میر رضا قتل کیس: وعدہ ہے کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، جسٹس عمر سیال

میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا
میر رضا قتل کیس: وعدہ ہے کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، جسٹس عمر سیال

Webdesk

|

28 Aug 2026

کراچی: میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے کہا ہے کہ وعدہ ہے کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے۔  

میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا جس کی سربراہی جسٹس عمر سیال نے کی۔جسٹس عمر سیال نے میر رضا کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ بہیمانہ طریقے سے آپ کا بچہ آپ سے چھینا گیا، 10 برسوں سے قتل کیسز چلا رہا ہوں، اہلخانہ کی تکلیف کا احساس ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ کریڈٹ وزیراعلی سندھ کو بھی جاتا ہے ، کمیشن میں جو کچھ ہوگا وہ سب کے سامنے ہوگا، کمیشن کی کوشش ہوگی کہ اہلخانہ کے سوالات کے جوابات تلاش کیے جائیں۔

جسٹس عمر سیال نے واضح کیا کہ انکوائری اور انویسٹی گیشن میں فرق ہوتا ہے، کمیشن ٹی او آرز کے مطابق تحقیقات میں نقائص، پولیس کی کارکردگی اور غفلت کا جائزہ لے گا، انویسٹی گیشن کرنا کمیشن کا کام نہیں، نہ وزیراعلی اور نہ ہی کمیشن انویسٹی گیشن کرسکتے ہیں، ہم صرف غلطیوں کی نشاندہی کریں گے۔

جسٹس عمر سیال نے مزید کہا کہ سندھ حکومت سے کہا جائے گا اشتہار دیکہ عوام کے پاس کیس سے متعلق معلومات ہیں تو شیئر کریں، معلومات سے متعلق اشتہار اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں شائع کرایا جائے، حکومت کو کہا جائے گا کہ معلومات دینے والے کے لیے ایک لاکھ روپے انعام رکھا جائے۔

سربراہ کمیشن نے ہدایت کی کہ سندھ حکومت پولیس افسران اور ڈاکٹرز کی فہرست کمیشن کے سامنے پیش کرے، گواہان کے بیانات، میڈیکل رپورٹ، اصل دستاویزات بھی پیش کی جائیں، کمیشن کے رجسٹرار کو جو سہولیات درکار ہیں فراہم کی جائیں۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن سب کے لیے کھلا ہے، جوڈیشل کمیشن روایتی کمیشن کی طرح نہیں چلایا جائے گا، وعدہ ہے کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، کمیشن کی مدت کے دوران کسی سے ملاقات نہیں کرونگا، وزیراعلی سندھ بھی ملنے آئے تو ان سے بھی ملاقات نہیں کرونگا۔

جسٹس عمر سیال نے واضح کیا کہ اہلخانہ کی جانب سے دائر درخواست کا کمیشن سے کوئی تعلق نہیں، وہ درخواست اپنی جگہ چلتی رہے گی۔

اس موقع پر میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ نئی انویسٹی گیشن ٹیم بنی تھی تو ہم نے کہا اس کو کام کرنے دیا جائے ، پچھلی والی انویسٹی گیشن ٹیم نے مجرمانہ غفلت کی، وزیر اعلی سندھ کو کہا تھا کہ پرانی انویسٹی گیشن ٹیم کی مجرمانہ غفلت دیکھی جائے.

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!