3 hours ago
خامنہ ای کی شہادت کے بعد امام خمینی کے پوتے حسن خمینی توجہ کا مہور بن گئے
Webdesk
|
3 Mar 2026
تہران : ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک میں قیادت کے ممکنہ جانشینوں سے متعلق بحث شروع ہو گئی ہے، جس میں بانی انقلابِ ایران روح اللہ خمینی کے پوتے حسن خمینی کا نام نمایاں طور پر سامنے آ رہا ہے۔
حسن خمینی اسلامی جمہوریہ ایران کے وفادار سمجھے جاتے ہیں، تاہم وہ اصلاحات کے حامی اور بعض مواقع پر حکام پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔
2021 میں انہوں نے گارڈیئن کونسل کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جب اصلاح پسند امیدواروں کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔
اس فیصلے کے نتیجے میں سخت گیر رہنما ابراہیم رئیسی کامیاب ہوئے تھے، جو 2024 میں ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔2022 میں نوجوان ایرانی خاتون مہیسا امینی کی پولیس کی حراست میں موت کے بعد ملک گیر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔
حسن خمینی نے اس واقعے پر شفاف تحقیقات اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکام کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ 22 سالہ لڑکی کے ساتھ کیا ہوا۔
اسی دوران انہوں نے ان مظاہرین پر بھی تنقید کی جو خامنہ ای کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور بدامنی کے دوران ریاستی مقف کی حمایت کی۔
انہوں نے بعض پرتشدد کارروائیوں کو شدت پسند تنظیم داعش سے تشبیہ دی اور حکومت کے حامی مارچ میں بھی شریک ہوئے۔خامنہ ای کی وفات پر تعزیتی پیغام میں حسن خمینی نے انہیں ایران اور مسلمانوں کا ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم ایک بار پھر امام خمینی کے راستے پر چلتے ہوئے اس مشکل مرحلے سے گزرے گی۔
حسن خمینی کو قریبی حلقوں میں ایک نسبتا روشن خیال مذہبی اسکالر تصور کیا جاتا ہے، خصوصا موسیقی، خواتین کے حقوق اور سماجی آزادیوں کے حوالے سے ان کے خیالات قدرے نرم سمجھے جاتے ہیں، وہ سوشل میڈیا رجحانات پر نظر رکھتے ہیں اور مغربی فلسفے سمیت اسلامی فکر میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔
Comments
0 comment