کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش سامنے آگئی

کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش سامنے آگئی

پاور ڈویژن نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔
کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش سامنے آگئی

Webdesk

|

2 Sep 2026

اسلام آباد : کاروباری اوقات میں 30 منٹ اضافے کی سفارش سامنے آگئی ، اوقات بڑھانے سے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی وصولیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی ذیلی کمیٹی نے کاروباری اوقات معمول پر لانے کے لیے ابتدائی طور پر کاروباری اوقات میں 30 منٹ اضافے کی سفارش کردی، تاہم پاور ڈویژن نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں کاروباری اوقات بڑھانے کے معاملے پر غور کیا گیا۔کاروباری نمائندوں کا مقف تھا کہ کاروباری سرگرمیوں کے اوقات بڑھانے سے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی وصولیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

پاور ڈویژن حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کاروباری اوقات میں اضافے سے اضافی 600 میگاواٹ بجلی درکار ہوگی۔حکام کے مطابق اضافی طلب پوری کرنے کے لیے فرنس آئل سے چلنے والے پاور پلانٹس چلانے پڑ سکتے ہیں.جس سے بجلی کی فی یونٹ لاگت میں تقریبا 5 روپے اضافہ ہوسکتا ہے۔

پاور ڈویژن حکام نے مزید بتایا کہ ملک میں اس وقت صرف ایک دن کا ایل این جی ذخیرہ موجود ہے۔ اضافی بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے اسپاٹ ایل این جی کارگوز کی خریداری سے بجلی کی لاگت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اجلاس میں پاکستان سے صنعتوں کی منتقلی، ایف بی آر کی گورننس، سرکاری افسران کی دہری شہریت، صنعتی پالیسی اور کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کاروباری برادری کا اعتماد بحال کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں.جن میں کاروباری نمائندوں کے ساتھ مشترکہ کمیٹیوں کا قیام بھی شامل ہے۔

حکام کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر ایف بی آر چیئرمین ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں کیمپ آفس قائم کریں گے، جبکہ لاہور میں بھی دو روزہ کیمپ آفس لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!