ام رباب کے والد، دادا اور چچا کے قتل کا کیس، تمام ملزمان کو بری کردیا گیا
Webdesk
|
30 Mar 2026
دادو: فوجداری ٹرائل کورٹ نے تہرے قتل کیس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے 2 ایم پی ایز سمیت 8 ملزمان کو بری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق دادو میں 6 سال قبل ام رباب کے دادا، والد اور چاچا کو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کیا جس کے بعد انہوں نے پی پی کے دو ایم پی ایز سمیت 8 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔
عدالت میں اس مقدممے کی سماعت ہوئی جس کے دوران ملزمان اور درخواست گزار کے وکلا نے دلائل پیش کیے اور عدالت نے محفوظ فیصلہ جاری کردیا۔
فوجداری عدالت نے سردار احمد خان چانڈیو، برہان خان چانڈیو سمیت 8 افراد پر جرم ثابت نہ ہونے پر درخواست خارج کرتے ہوئے نامزد ملزمان کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے باعزت بری کیا۔
عدالتی فیصلے پر ام رباب چانڈیو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اشتہاری ملزمان کو بھی عدالت نے بری کردیا تاہم انہوں نے کہا کہ میرے حوصلے بلند ہیں اور ماڈل کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کروں گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ام رباب نے کہا کہ دنیا حیران ہے کہ تین قتل تمام جوابدار بری ہوگئے جبکہ جن جوبداروں نے اقرار کیا کہ ہم نے قتل کیا ہے ان جوابداروں بھی بری کردیا گیا ہے۔
کیس کا پس منظر
واضح رہے کہ ام رباب کے والد مختیار علی، دادا کرم اللہ اور چاچا کابل چانڈیو 17 جنوری 2018 میں میہڑ میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔
پیپلزپارٹی ایم پی اے کے بھائی کے نامزد ہونے کیوجہ سے یہ کیس ہائی پروفائل بن گیا۔
دوسری جانب ہیومن رائٹس کونسل پاکستان نے ام رباب چانڈیو کیس میں عدالت کی جانب سے تمام ملزمان کی بریت کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ متاثرہ خاندان کے لیے نہایت تکلیف دہ ہے اور ہمارے نظامِ انصاف پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
اُدھر جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے اپنے پیغام میں ام رباب کی جدوجہد کو تاریخی قرار دیتے ہوئے انہیں سلام پیش کیا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وڈیرہ شاہی جیت گئی اور انصاف ہار گیا،فیصلے نے پھر ثابت کردیا نظام انصاف طاقت ور جاگیر داروں کے گھر کی لونڈی ہے۔
انہوں نے بلاول بھٹو سے سوال کیا کہ ’کیا ام رباب قوم کی بیٹی نہیں ہے
Comments
0 comment