ایک سال میں 10 کروڑ موبائل ڈیوائسز کیوں بلاک کی گئیں ؟
ویب ڈیسک
|
7 Jan 2026
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے مالی سال 2024-25 کے دوران موبائل ڈیوائسز کے خلاف کی گئی کارروائیوں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق ایک سال میں غیر قانونی، جعلی اور مشکوک موبائل فونز کی بڑی تعداد نیٹ ورکس سے ہٹا دی گئی۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق پی ٹی اے نے اس عرصے میں مجموعی طور پر تقریباً 10 کروڑ موبائل ڈیوائسز کو بلاک کیا۔ ان میں 8 لاکھ 68 ہزار وہ موبائل فون شامل تھے جو گمشدہ یا چوری شدہ قرار دیے گئے، جبکہ سب سے بڑی تعداد جعلی یا ریپلیکا فونز کی رہی، جن کی تعداد 7 کروڑ 20 لاکھ سے زائد بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 2 کروڑ 70 لاکھ ایسی ڈیوائسز بھی بند کی گئیں جن کے آئی ایم ای آئی نمبرز ڈپلیکیٹ یا کلون تھے۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موبائل ڈیوائس رجسٹریشن سسٹم کے ذریعے 2019 سے اب تک قومی خزانے کو 83 ارب روپے سے زیادہ کی ٹیکس آمدن حاصل ہو چکی ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق ڈی آئی آر بی ایس نظام کے نفاذ سے نہ صرف غیر معیاری اور جعلی موبائل فونز کی درآمد میں واضح کمی آئی بلکہ موبائل مارکیٹ کو بھی باقاعدہ دستاویزی شکل ملی۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ موبائل ڈیوائس مینجمنٹ ریگولیشنز 2021 کے تحت ملک میں موبائل فون اسمبلنگ اور تیاری کو فروغ ملا، جس کے نتیجے میں 2025 تک پاکستان میں استعمال ہونے والے 95 فیصد سے زائد موبائل فون مقامی سطح پر تیار کیے جا رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں استعمال ہونے والے تقریباً 68 فیصد اسمارٹ فونز مقامی پیداواری یونٹس میں بن رہے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق اب تک 36 موبائل فون مینوفیکچرنگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سام سنگ، شیاؤمی، اوپو اور ویوو جیسے معروف عالمی برانڈز شامل ہیں۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ ڈی آئی آر بی ایس کے تسلسل سے پاکستان میں ایک محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل نظام قائم ہوا ہے اور ملک مستقبل میں خطے کی موبائل فون ویلیو چین میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Comments
0 comment