ایران کو سیٹلائٹ تصویریں کیوں دیں؟ پیوٹن سے معلوم کروں گا، ٹرمپ

ایران کو سیٹلائٹ تصویریں کیوں دیں؟ پیوٹن سے معلوم کروں گا، ٹرمپ

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمیں پتہ چل جائے گا کہ یہ سچ ہے یا نہیں
ایران کو سیٹلائٹ تصویریں کیوں دیں؟ پیوٹن سے معلوم کروں گا، ٹرمپ

Webdesk

|

28 Jul 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ اس دعوے کی جانچ کرے گی کہ روس نے امریکی فوجی اڈوں کی تصاویر ایران کو فراہم کی ہیں۔

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کی جانب سے یہ دعوی کیے جانے کے بعد، ٹرمپ نے پیر 27 جولائی کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں روسی صدر پیوٹن سے ضرور معلوم کروں گا کہ انہوں نے ایران کو سیٹلائٹ تصویریں کیوں دیں۔

 ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمیں پتہ چل جائے گا کہ یہ سچ ہے یا نہیں، میں پیوٹن سے اس بارے میں پوچھوں گا۔ لیکن اگر انہوں نے ایسا کیا بھی تو اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔

امریکی صدر کا مقف تھا کہ ماسکو اور تہران کے درمیان اگر کوئی بھی سیٹلائٹ شیئرنگ کا معاہدہ ہوا بھی ہو تو ایران کی محدود فوجی صلاحیتوں کی وجہ سے اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ایران کے پاس نہ فوج ہے، نہ فضائیہ ہے، نہ بحریہ ہے اور نہ ہی کچھ اور ہے، اس لیے یہ سب کارآمد ثابت نہیں ہوا۔

صدر زیلنسکی کے مطابق روسی سیٹلائٹس نے 19 اور 20 جولائی کو خلیجی خطے میں خاص طور پر چار ایئربیسز پر توجہ مرکوز رکھی، جن میں دو بحرین جبکہ ایک ایک اردن اور کویت میں واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نگرانی کی ٹائمنگ سے اس کے مقاصد کے بارے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔

صدر زیلنسکی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرینی انٹیلی جنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ روس، ایران کو خلیجی ریاستوں اور امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

Comments

https://dialoguepakistan.com/ur/assets/images/user-avatar-s.jpg

0 comment

Write the first comment for this!