زیر حراست ملزم ذیشان کے ساتھ اس کا بھائی سہیل بھی پنکی کے اکائونٹس دیکھتا تھا۔
متاثرہ لڑکا سن اور بول نہیں سکتا، میڈیکل میں بھی جنسی زیادتی کی تصدیق بھی ہوگئی ہے۔
مقدمات میں شامل دیگر پہلوئوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے
واقعے کے بعد ڈرائیور گاڑی سمیت فرار ہو گیا
پنکی کے موبائل سے 800 سے زائد نمبر ملے جن میں سے 240کی لوکیشن مل گئی ہے
بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث اموات میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
احتجاج میں شریک شہریوں نے بتایا کہ گزشتہ 21 دن سے علاقے میں پانی کی فراہمی بند ہے
اسپتال انتظامیہ کے مطابق مرنے والوں خاتون، ایک بچی اور ایک بچہ شامل ہے
عمان جانے والی خاتون کو امیگریشن کلیئرنس کے دوران مشکوک دستاویزات کی بنیاد پر روکا گیا۔
مختلف کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 23 ملزمان کو گرفتار کیا گیا
انکوائری کمیٹی کو 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امدادی ٹیمیں سمندر میں لاپتہ شخص کی تلاش میں مصروف ہیں
واقعے کے بعد مشتعل افراد نے کیفے میں ہنگامہ آرائی اور تھوڑ پھوڑ کی
والدین اب اسکول انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی چاہتے ہیں
ام رباب چانڈیو نے کہا ہے کہ کیس میں اپیل سننے کی درخواست سندھ ہائی کورٹ نے منظور کر لی
ملزم کو حراست میں لے کر مزید تفتیش جاری ہے
ابتدائی معلومات کے مطابق بچی کھیل کود کے دوران بالکونی سے گر گئی